سال 2025 پنجاب حکومت اور بیوروکریسی کے لیے غیر معمولی اور متنازع سال ثابت ہوا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پنجاب حکومت اور بیوروکریسی کے لیے سال 2025 تلخ یادیں اور انوکھے ریکارڈ چھوڑ گیا، ملکی تاریخ میں پہلی بار چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس اور دیگر اہم انتظامی عہدوں پر تعینات افسران کو تبدیل نہیں کیا گیا بلکہ نگران دور کے سیٹ اپ کو ہی آگے بڑھایا گیا۔
سال 2024 میں ٹرانسفر پوسٹنگ پر عائد پابندی 2025 میں بھی برقرار رہی، تاہم وزیراعلیٰ کی منظوری سے تبادلے اور تقرریاں جاری رہیں۔
تمام سرکاری محکمے مکمل طور پر سینٹرلائزڈ رہے، سپاہی سے لے کر ایڈیشنل آئی جی اور نائب قاصد سے لے کر محکموں کے سیکریٹری تک تمام ٹرانسفر پوسٹنگ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے کنٹرول میں رہی۔
پابندی کے باوجود گریڈ ایک سے گریڈ 21 تک کے دو ہزار سے زائد سول اور پولیس افسران و ملازمین کے تبادلے کیے گئے۔
ایکسپریس ٹریبیون اور روزنامہ ایکسپریس کو دستیاب ریکارڈ کے مطابق سال 2025 افسر شاہی کے لیے ایک منفرد سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جس میں کئی نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔
35 سے زائد سول اور پولیس افسران صوبے کے انتظامی فیصلوں میں مرکزی حیثیت رکھتے رہے، نگران دور میں تعینات یہ افسران سال 2025 میں بھی پنجاب کے اہم فیصلوں پر اثرانداز ہوتے رہے۔
اس کے برعکس گزشتہ سال کئی افسران بار بار تبادلوں کے باعث شٹل کاک بنے رہے، جبکہ ریکارڈ کے مطابق موجودہ حکومت نے دیگر صوبوں یا وفاق سے بہت کم افسران پنجاب میں تعینات کیے۔
زیادہ تر نگران دور کے افسران پر ہی انحصار کرتے ہوئے بیوروکریسی کو سنٹرلائزڈ انداز میں چلایا گیا۔
پابندی کے باوجود سمریوں کے ذریعے پنجاب کی افسر شاہی میں تبادلوں کا سلسلہ دسمبر کے آخری ہفتے تک بھی پوری شدت سے جاری رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سال 2025
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔