پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نگہت شکیل کا ہیڈ آفس کراچی کا دورہ ،ملازمین نیشکایات کے انبار لگا دیے
وحید سومرو، نبی بخش جمالی، مجیب سولنگی کی پبلک ڈیلنگ والی پوسٹ پر تقرری پرشدید ناراضگی کا اظہار

وزارت سائنسو ٹیکنالوجی کی پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نگہت شکیل نے پی ایس کیو سی اے ہیڈ آفس کراچی کا دورہ کیا۔ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل فنانس توفیق عباسی کی جانب سے بریفنگ کے دوران افسران اور اسٹاف کی طرف سے شکایات کے انبار، 34 سال سے افسران کی پروموشن نہ ہونے کی شکایات کی گئی ۔جبکہ ملازمین نے شکایات کی کہ جعلی سزا یافتہ افسران پروموشن اور میرٹ میں رکاوٹ ہیں۔ دوسری طرف پارلیمانی سیکریٹری سائنس اور ٹیکنالوجی نے شکایتوں کے انبار سننے کے بعد ملازمین کو یقین دلایا کہ جعلی بھرتی شدہ افسران خالد بابلانی اور علی بخش سومرو کے خلاف عدالتی احکامات پر ابھی تک عملدرامد نہ کرنے والے افسران اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جس میں ڈپٹی ڈائیریکٹر جرنل فنانس توفیق عباسی سمیت سب کے خلاف کارروائی ہوگی۔ڈاکٹر نگہت شکیل نے سزا یافتہ انسپکٹرز وحید سومرو، نبی بخش جمالی، مجیب سولنگی کی پبلک ڈیلنگ والی پوسٹ پر تقرری پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ادارے کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور مستقبل کی حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل PSQCA نے پارلیمانی سیکرٹری کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارہ قومی سطح پر معیار بندی، کوالٹی کنٹرول، سرٹیفکیشن اور غیر معیاری و جعلی مصنوعات کے خلاف کارروائی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے لیبارٹری سہولیات کی بہتری اور قومی معیارات کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔پارلیمانی سیکرٹری نے PSQCA کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری اور محفوظ مصنوعات کی فراہمی عوامی صحت، صارفین کے تحفظ اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیار کے مؤثر نفاذ سے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے بلکہ برآمدات کے فروغ میں بھی مدد ملتی ہے۔انہوں نے ادارہ جاتی شفافیت، استعداد کار میں اضافے اور قانون کے مؤثر نفاذ پر زور دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت PSQCA کو مضبوط اور فعال بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔دورے کے موقع پر PSQCA کے سینئر افسران بھی موجود تھے جنہوں نے ادارے کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ دورے کے اختتام پر معیاری مصنوعات کے فروغ اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔دوسری طرف ملازمین نے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی پر پارلیمانی سیکریٹری کا شکریہ ادا کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پارلیمانی سیکرٹری انہوں نے کے خلاف

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا