امن یا وہم؟ دو دہائیوں کی ناکامیوں کے بعد بھی پی ٹی آئی کی ٹی ٹی پی سے بات چیت کی حمایت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ماضی کے دو دہائیوں میں متعدد امن معاہدوں کی ناکامی کے باوجود پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اب بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کر رہی ہے۔ صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کسی بھی آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی اور فوجی کارروائیاں کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں سے قائم نہیں ہو سکتا اور امن جرگہ نے بھی آپریشن کو مسترد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا "اگرچہ صوبے میں آپریشن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، تاہم کوئی بھی فرد یا ادارہ زور زبردستی اپنا فیصلہ خیبرپختونخوا پر مسلط نہیں کر سکتا۔" پاکستان نے ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ کئی امن معاہدے کیے، تاہم ان میں سے کوئی بھی پائیدار امن قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ان معاہدوں کے ناکام ہونے کے بعد ریاست کو مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں کرنا پڑیں۔ ماضی میں پاکستانی حکام نے عسکریت پسند رہنماؤں، نیک محمد، بیت اللہ محسود، حافظ گل بہادر، صوفی محمد، مولانا فضل اللہ، فقیر محمد اور منگل باغ کے ساتھ امن معاہدے کیے، لیکن یہ معاہدے چند ماہ سے زیادہ برقرار نہ رہ سکے۔ پہلا امن معاہدہ اپریل 2004میں جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی میں نیک محمد وزیر کے ساتھ ہوا۔ یہ معاہدہ مارچ 2004 میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد طے پایا، جس کا مقصد نیک محمد پر غیر ملکی جنگجوؤں سے تعلقات ختم کرنے کا دباؤ ڈالنا تھا۔ معاہدے کے تحت حکومت نے قیدی رہا کیے اور جائیداد کے نقصان کا معاوضہ ادا کیا، جبکہ نیک محمد نے غیر ملکی جنگجوؤں کی رجسٹریشن اور سرحد پار حملے روکنے کا وعدہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔