اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ جاری؛ انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد مندی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
کراچی:
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج اتار چڑھاؤ کا رجحان جاری ہے جب کہ انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد مندی کا شکار ہے۔
بازار حصص میں آج کاروبار کا آغاز 1346 روپے کی بڑی تیزی کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 83 ہزار 754 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
مزید پڑھیںاسٹاک ایکس چینج میں میوچل فنڈز کی سرمایہ کاری 10سال کی بلند ترین سطح پر
اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ قائم؛ انڈیکس 1 لاکھ 82 ہزار کی نئی سطح پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے 15 ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا؛ سرمایہ کاروں کی تعداد بلند ترین سطح پر
بعد ازاں مارکیٹ میں مندی کا رجحان آیا، جس کے باعث بتدریج 606 اور 853 پوائنٹس کی مندی کے ساتھ انڈیکس گھٹ کر ایک لاکھ 81 ہزار 555 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ایس ایکس میں شاندار تیزی دیکھی گئی تھی، جب انڈیکس 4210 کی تاریخی تیزی کے ساتھ بڑھ کر ایک لاکھ 83 ہزار کی نفسیاتی سطح عبور کرگیا تھا، تاہم بعد میں اسٹاک ایکسچینج ایک لاکھ 82 ہزار 408 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج پوائنٹس کی ایک لاکھ
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔