پاکستان کا وینزویلا میں امریکی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں وینزویلا میں امریکی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
قائم مقام مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل میں کہا کہ یکطرفہ فوجی کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستی خود مختاری استثنیٰ کے نظریے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات آنے والے برسوں تک غیر متوقع اور بے قابو نتائج کا سبب بن سکتے ہیں، کیریبین خطے میں عدم استحکام علاقائی اور بین الاقوامی امن وسلامتی کے لیے نیک شگون نہیں۔
قائم مقام مندوب کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا منشور پابند بناتا ہے کہ ممالک دوسری ریاست کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے باز رہیں۔
عثمان جدون نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطرناک نظیر قائم کرتے ہیں، اس طرح کے اقدامات عالمی قانونی ڈھانچے کی بنیادوں کو کمزور کرنے کا خدشہ رکھتے ہیں۔
پاکستان کے قائم مقام مندوب عثمان جدون نے کہا کہ اس نازک مرحلے پر آگے بڑھنے کا واحد راستہ مکالمہ اور سفارت کاری ہونا چاہیے۔
خیال رہے کہ 3 جنوری کو امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ایک فوجی کارروائی کے دوران حراست میں لیا تھا، جس کے بعد انہیں نیویارک کی جیل میں قید رکھا گیا ہے۔
وینزویلا کے صدر پر منشیات اور دہشتگردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جارہا ہے، انہیں امریکی عدالت میں پیش کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کے معاملات خود چلانے، تیل کے ذخائر قبضے میں لینے اور امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا بھیجنے کا اعلان کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز امریکا کی ہر بات ماننے کو تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔