امریکا کی لاٹھی امریکا کی بھینس
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260106-03-8
باباالف
شور برپا ہے امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کرلیا۔ صدر ٹرمپ کو امریکا کے لیے تیل چا ہیے۔ انہوں نے برازیل کے صدر کو بھی تیل سمیت محفوظ کردیا۔ اس میں کیا برائی ہے؟؟ طاقتور کمزور سے بد معاشی نہیں کرے گا تو کس سے کرے گا؟ حالانکہ یہ بد معاشی نہیں۔ امریکا کی عالمی ذمے داری اور قانون کو بالادست رکھنے کے تقاضے ہیں۔ اگر ٹرمپ ایسا نہ کرتے تو کیسے ثابت ہوتا کہ ہم نے انہیں ’’جائز طور پر‘‘ نوبل پرائز کے لیے منتخب کیا ہے۔
اب صدر مادورو اپنے ملک سے زیادہ محفوظ رہیں گے۔ انہیں اغوا کرکے امریکا لے جانے میں ایک بڑی مصلحت یہ ہے کہ 2002 میں امریکا نے صدر ہیوگو شاویز کو فوج کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا تھا لیکن عوام 48 گھنٹوں میں انہیں دوبارہ اقتدار میں لے آئے تھے۔ اب صدر مادورو کے باب میں وینزویلا کے عوام سے پھر ایسی غلطی کا صدور ممکن نہیں۔ اب عوام ان کے خلاف مظاہرے کرسکیں گے اور نہ ہی انقلاب بپا کرسکیں گے جیسا کہ آج کل ایران کے عوام کرنا چاہ رہے ہیں۔ امریکا بصد اشتیاق ایران کے عوام کی خدمت بجا لانے کا بھی متمنی ہے لیکن یہ کافر ملّا؟ کب کسی کے قابو میں آتے ہیں؟
میں جانتا ہوں انجام اس کا
جس معرکے میں ملّا ہو غازی
وینزویلا کے صدر کا اغوا! اغوا نہیں دوستانہ میزبانی ہے۔ اغواکار جہاز میں بزنس کلاس نہیں دیتے، کیمرے سامنے رکھ کر آپریشن نہیں کرتے، ان کے ساتھ قانون سفر نہیں کرتا، وہ اغوا کنندگان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کرتے۔ امریکا صرف دو طرح کے لوگوں کو اغوا کرتا ہے: دہشت گردوں کو، دشمنوں کو اور تیسرے ان لوگوں کو جو غلط ملک کے غلط وقت پر صدر بن جاتے ہیں۔ اب وینزویلا کو ’’ملکی خود مختاری‘‘ اور دفاع کی فکر نہیں رہے گی۔ امریکا کی سربراہی میں اسے زیادہ سے زیادہ جمہوری بنایا جائے گا جیسا کہ امریکا کی سربراہی میں افغانستان اور عراق میں جمہوریت بالادست رہی ہے۔ ’’ہمارا ساتھ دو یا پھر کھنڈر بننے کے لیے تیار رہو‘‘ ایسے تذبذب میں ڈالنے کے بجائے امریکا نے شرافت سے صدر مادورو کو پار کرلیا۔ یہ نیکی ہے یا بدی؟
وینزویلا میں دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر ہیں: 300 ارب بیرل سے زیادہ۔ سونے کے ذخائر لاطینی امریکا میں سب سے زیادہ وینزویلا میں ہیں۔ نایاب معدنی عناصر Rare Earth Elements کے ذخائر اس کے علاوہ ہیں جو جدید ٹیکنالوجی اور قابل تجدید توانائی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ کولٹن جسے ’’بلیو گولڈ‘‘ کہا جاتا ہے جو اسمارٹ فونز، بیٹریوں اور ہائی ٹیک آلات کے لیے لازمی ہے، وینزویلا میں ان کی مالیت 100 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ لوہے کی قابل حصول مقدار کا اندازہ ساڑھے چار سے پانچ ارب میٹرک ٹن ہے۔ قدرتی گیس کے ثابت شدہ ذخائر تقریباً 5.
وینزویلا کے صدر کے اغوا میں امریکا کی نگہ انتخاب کی داد دینی پڑتی ہے۔ کس خوبی سے اس نے وینزویلا کے میر جعفروں اور میر صادقوں کو تلاش کرکے ان کی خاموشی کی قیمت ادا کی ہے۔ وینزویلا کی فوج کی کل تخمینی تعداد 3 لاکھ 37 ہزار ہے۔ مرکزی انٹیلی جنس سروس SEBIN نے روسی اور اطالوی ٹیکنالوجی سے نگرانی کا وسیع نظام قائم کیا ہے۔ فوجی انٹیلی جنس DGCIM بھی فعال ہے جو فوج کے اندر نگرانی کرتی ہے۔ صدر کی حفاظت کے لیے کئی جہتوں پر مبنی سیکورٹی سسٹم ہے جس کی ذمے داری پریذیڈنشیل آنر گارڈ پر ہے۔ یہ ایک ایلیٹ فورس ہے جو میرافلورس پیلس، سرکاری رہا ئش گاہوں اور عوامی تقریبات میں صدر کی قریبی حفاظت کرتی ہے۔ SEBIN کائونٹر انٹیلی جنس اور نگرانی فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرونک کائونٹر ڈرون سسٹم، فضائی پابندیاں اور صدر کے باڈی گارڈز کی کثیر تعداد موجود ہے۔ تاہم جب غداروں نے اپنے صدر کو امریکا کے ہاتھوں بیچ دیا، فوج اور جنرل وفادار نہ رہے تو ریاست اور اس کے ادارے ایک خول کے سوا کچھ نہیں رہے۔ کسی ریڈار کی ایک ہلکی سی بیپ سنائی دی اور نہ گولی کی آواز۔ صدر کی حفاظت پر مامور اہلکار دن میں حفاظت کا فریضہ سرانجام دیتے رہے اور رات کو امریکی سفارتخانے کی فون کال کا انتظار۔ جب ڈالروں سے جیبیں بھری ہوں اور بیوی بچے امریکا منتقل ہوں تو وفاداری بوجھ بن جاتی ہے
اور امریکی ڈیلٹافورس سے تعاون ایک مقدس فرض۔ ایسے مقدس کاموں میں امریکا کا ساتھ دینے میں ہم بھی کم نہیں۔ اسامہ بن لادن کی روح آج بھی اس کا اعتراف کرتی ہے۔
اب آئیے اصل بات پر۔۔ وینزویلا پر امریکی حملہ نہ منشیات کے خلاف ہے، نہ دہشت گردی کے خلاف اور نہ جمہوریت کی بقا کے لیے۔ یہ اصل میں امریکی ڈالر کی بقا کے لیے ہے۔ کہانی 1974 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدے سے شروع ہوئی جب یہ طے ہوا کہ دنیا میں فروخت ہونے والا ہر بیرل تیل صرف امریکی ڈالر میں فروخت ہوگا اور بدلے میں امریکا عسکری تحفظ فراہم کرے گا۔ اس ایک معاہدے نے ڈالر کو عالمی معیشت کا محور بنا دیا۔ تیل کی خرید کے لیے ہر ملک کے لیے ڈالر کی ضرورت ناگزیر ہوگئی۔ امریکا ڈالر چھاپتا رہا اور دنیا اور امریکا کا کام چلتا رہا۔ نہ طیارہ بردار جہاز، نہ فوجی اڈے بلکہ یہ نظام یہ ’’پٹرو ڈالر سسٹم‘‘ امریکی طاقت کی اصل بنیاد ہے۔ وینزویلا کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس تیل کا سعودی عرب سے بھی بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ دنیا کے کل تیل کا 20 فی صد۔ وینزویلا نے جرم یہ کیا کہ اس نے ڈالروں میں تیل کی فروخت بند کردی اور یوآن، یورو اور روبل میں تیل فروخت کرنا شروع کردیا۔ SWIFT کو نظر انداز کردیا۔ BRICS میں شمولیت کی کوشش کی۔ چین کے ساتھ براہ راست ادائیگی کے نظام بنائے۔ یہ ڈالر کو چیلنج کرنے والی بات تھی جو امریکا کے لیے ناقابل قبول تھی، ناقابل قبول ہے۔ اس سے پہلے صدام حسین نے تیل یورو میں بیچنے کا اعلان کیا، لیبیا کے کرنل قذافی نے گولڈ دینار کی حرکت کی تھی، امریکا نے رجیم چینج کرکے انہیں نشان عبرت بنادیا۔ امریکا کا پیغام واضح ہے ’’اگر ڈالر کو چیلنج کروگے ہم تمہیں برباد کردیں گے۔ تمہارا تیل تمہارا نہیں امریکا کا ہے‘‘۔ اب ڈالر کی اجارہ داری معاشی برتری سے نہیں تشدد اور بدمعاشی سے قائم ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس نہیں۔۔۔ امریکا کی لاٹھی امریکا کی بھینس۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں امریکا امریکا کی امریکا نے امریکا کا سے زیادہ کے ذخائر کرتی ہے کے عوام کے لیے صدر کے
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم