اسرائیل و امریکا کی حمایت کے اعلان کے بعد بعض گمراہ عناصر کو سڑکوں پر لایا گیا، ایران
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
ایران میں ایک بازار میں لوگ خریداری کر رہے ہیں(تصویر سوشل میڈیا)۔
ایران نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے گمراہ عناصر کو اکسانے کا سلسلہ جاری ہے، دشمن عناصر نے ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال انگیزی کی، گرفتار شرپسندوں نے غیر ملکی ایجنسیوں سے مالی روابط کا اعتراف بھی کیا ہے۔
ایرانی کرنسی کی اچانک گراوٹ کے باعث بعض تاجروں نے بھی احتجاج کیا، تاہم ذمہ دار مظاہرین سے مذاکرات کے بعد ان کے تحفظات دور کرنے پر اتفاق ہوا۔
اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق دشمن عناصر نے ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال انگیزی کی، اسرائیل اور امریکا کی حمایت کے اعلان کے بعد بعض گمراہ عناصر کو سڑکوں پر لایا گیا۔
ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے صورتحال پر قابو پا لیا گیا، چند شہروں میں شرپسندی کرنے والے چند عناصر کو فوری طور پر منتشر کر دیا گیا، گرفتار شر پسندوں نے غیر ملکی ایجنسیوں سے مالی روابط کا اعتراف بھی کیا ہے۔
ایرانی سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق حکومت نے ملکی کرنسی میں اچانک گراوٹ کے باعث تاجروں کے احتجاج کا فوری نوٹس لے کر ان کے ساتھ مذاکرات کیے، اس حوالے سے صدر نے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے بعد مظاہرین کے تحفظات دور کرنے پر اتفاق ہوا اور قانونی احتجاج کرنے والے دکانداروں نے اپنے احتجاج کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کی۔
ترجمان کے مطابق حکومت کے ذمہ دارانہ رویے نے بدامنی کو پھیلنے سے روکے رکھا۔ متعدد شہروں میں امن و امان مکمل طور پر بحال ہے۔
ترجمان کے مطابق ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے، تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث رفتار میں جزوی کمی برقرار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ترجمان کے مطابق عناصر کو کے بعد
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔