پاکستان کی بزنس کمیونٹی آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کیلئے کردار ادا کرے گی، عاطف اکرام شیخ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پاکستان کی بزنس کمیونٹی آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کیلئے کردار ادا کرے گی، عاطف اکرام شیخ WhatsAppFacebookTwitter 0 6 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) عاطف اکرام شیخ نے وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر سردار فیصل راٹھور سے ملاقات کی۔ ملاقات میں آزاد کشمیر میں صنعت و تجارت کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں ایڈوائزر انڈسٹری فہد یعقوب، نائب صدر ایف پی سی سی آئی طارق جدون اور چیئرمین کیپیٹل آفس کریم عزیز ملک بھی شریک تھے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو خطے میں بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل، خصوصاً ڈبل ٹیکسیشن، لاجسٹکس، سیلز ٹیکس اور ڈرائی پورٹ سے متعلق رکاوٹوں سے آگاہ کیا۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں صنعت اور کاروبار کی ترقی کے لیے ان مسائل کا فوری حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کشمیر کی جنت نظیر وادی میں سیاحت کے بے پناہ امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے لیے سرمایہ کاری کرے گی۔
اس موقع پر انہوں نے آزاد کشمیر میں ہائیڈل پاور پروجیکٹس لگانے کی بھی پیشکش کی۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار فیصل راٹھور نے اس موقع پر کہا کہ بزنس کمیونٹی قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ حکومت بزنس کمیونٹی کو خوش آمدید کہتی ہے اور مسائل کے حل کے لیے مشاورت کے ساتھ پائیدار اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے تمام وسائل بزنس کمیونٹی کے لیے حاضر ہیں اور سیلز ٹیکس، ڈرائی پورٹ سمیت دیگر معاملات پر تفصیلی مشاورت جاری رہے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمجھے اغوا کیا گیا، وینزویلا کا صدر ہوں، الزامات بے بنیاد ہیں: مادورو کا عدالت میں بیان مجھے اغوا کیا گیا، وینزویلا کا صدر ہوں، الزامات بے بنیاد ہیں: مادورو کا عدالت میں بیان اسلام آباد کو بھی شنگھائی کی طرز پر ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں: محسن نقوی فساد پھیلانے والوں کیلئےکوئی رعایت نہیں، قانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی: چیف جسٹس ایران بس بہت ہو چکا، مزید دباؤ برداشت نہیں کریں گے: ٹرمپ کی دھمکی پر گرین لینڈ کے وزیراعظم کا رد عمل پاکستان نے وینزویلا میں کارروائیوں کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیدیا چین اور جنوبی کوریا قریبی پڑوسی ہیں، اہلیہ چینی صدرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عاطف اکرام شیخ بزنس کمیونٹی میں سیاحت کے کے فروغ کے لیے کرے گی کہا کہ
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔