وزیر اعظم نے اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیکر آفر کی لیکن عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے لیڈر نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیکر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی آفر کی لیکن ہمیں اندازہ ہے کہ عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے۔
رپورٹ کے مطابق رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا اسلام آباد ہائی کورٹ بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کا طریقہ کار طے کیا، طریقہ کار طے کیا کہ ملاقات کے بعد سیاسی سرگرمیاں نہیں ہوں گی، ملاقات کے بعد ہلہ گلہ کا ماحول ہوتا ہے، پریس کانفرنس ہوتی ہے، لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلمان اکرم راجا نے عدالت کو طریقہ کار پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی، ملاقات میں طریقہ کار کی پاسداری کریں، قانون پر عمل کریں تو ملاقات میں کوئی رکاوٹ نہیں، اگر ہائیکورٹ حکم کی جیل حکام پاسداری نہیں کر رہے تو یہ کیوں عدالت نہیں جاتے۔
ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر حکومت کی نیت پر کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی دعوت دی تو کہا گیا ان کے پاس اختیار ہی نہیں، وزیراعظم نےاسٹیبلشمنٹ اور اپنے لیڈر نواز شریف کو اعتماد میں لے کر مذاکرات کی آفرکی ہے، آپ قبول کریں۔
ان کا کہنا تھا اب اپوزیشن کہتی ہےکہ ہم تحریک کا اعلان کرتے ہیں تو حکومت مذاکرات کی بات کرتی ہے، اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ان کی تحریک کامیاب ہونے جارہی ہے، اپوزیشن سمجھتی ہےکہ ان کی تحریک کی وجہ سے حکومت انہیں ٹریپ کرنے جا رہی ہے۔
سینئر رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ اپوزیشن 5 فروری کو پہیہ جام کرکے دیکھ لے اس کے بعد دوبارہ بات کرلیں گے، یہ کہتے ہیں پہلے ملاقات کرائیں، پھر بانی پی ٹی آئی کو منائیں گے، ہمیں اندازہ ہے بانی پی ٹی آئی مذاکرات نہیں چاہتے، بانی پی ٹی آئی حکومت میں ہوں تو اپوزیشن سے بات نہیں کرتے، بانی پی ٹی آئی کو ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی سے نقصان ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی رانا ثنا اللہ مذاکرات کی طریقہ کار نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :