ٹرمپ کو متاثر کرنے کیلئے مودی حکومت کی مہنگی لابنگ، سالانہ 18 لاکھ ڈالر خرچ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کو متاثر کرنے کے لیے ایک امریکی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کی ہیں، جو سوشل میڈیا پر موجود مواد کو ’فلیگ‘ کرنے سمیت مختلف سرگرمیوں میں شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق مودی حکومت نے اپریل 2025 سے امریکی لابنگ کمپنی SHW Partners LLC کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں، جس پر سالانہ تقریباً 18 لاکھ ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ ماہانہ ادائیگی ڈیڑھ لاکھ ڈالر بنتی ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی وزیر اعظم گزشتہ گیارہ برسوں میں نہ تو باقاعدہ پریس کانفرنس کرتے نظر آئے اور نہ ہی کھلے مکالمے کو ترجیح دی۔
ناقدین کے مطابق یک طرفہ ابلاغ اور سفارتی صلاحیتوں کی کمی کے باعث بھارت کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
مزید پڑھیںنریندر مودی اور ہندوستان کی ہندوتوا شناخت پر وال اسٹریٹ جرنل کی کھلی چارج شیٹ
مودی حکومت میں صحافیوں کی زندگی شدید دباؤ کا شکار، دی وائر نے بھانڈا پھوڑ دیا
آرٹیفیشل چیٹ بوٹ نے مودی کو احمق اور جاہل قرار دیدیا
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی کی سیاسی شبیہ، جسے بعض حلقے ’برانڈ مودی‘ قرار دیتے ہیں، مکمل طور پر عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے تیار کی گئی ہے۔
ان کے مطابق ہندوتوا کی سیاست کے فروغ اور بین الاقوامی سطح پر مثبت تاثر قائم رکھنے کے لیے بھاری رقوم خرچ کی جا رہی ہیں۔
Narendra Modi Regime is using a lobbying firm to “Flag Social Media posts”, to impress upon President Trump.
Modi Regime has hired SHW Partners LLC, to lobby with the White House since April 2025, at the cost of $1.8 million a year ($1,50,000 per month).
What else can you… pic.twitter.com/WAXTPN7VlX — Raju Parulekar (@rajuparulekar) January 6, 2026
رپورٹس کے مطابق یہ لابنگ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے بھارتی مصنوعات اور خدمات پر ٹیرف عائد کیے گئے اور بھارتی حکومت سے قریبی سمجھے جانے والے افراد کو قانونی نوٹسز جاری کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔