اربوں کی ادائیگی کے باوجود گندم اجرا میں تاخیر؛ قیمتیں بے قابو ہونے کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر سندھ حکومت کی جانب سے جنوری کے لیے فلور ملوں کو گندم کا کوٹہ فوری طور پر جاری نہ کیا گیا تو صوبے بھر خصوصاً کراچی میں آٹے کی قیمتیں قابو سے باہر ہو سکتی ہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ گندم کی عدم فراہمی سے نہ صرف آٹے کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے بلکہ اس کے اثرات براہ راست عوام پر پڑیں گے۔
چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق فلور ملوں نے سندھ حکومت کو گندم کی خریداری کے لیے ساڑھے 3 سے 4 ارب روپے کی خطیر رقم پیشگی جمع کرا دی ہے، اس کے باوجود محکمہ خوراک کی جانب سے گندم کے اجرا میں غیر ضروری تاخیر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ فلور ملیں مسلسل خام مال کی کمی کا شکار ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کی ادائیگی کے باوجود گندم کے اجرا میں تاخیری حربے اختیار کیے جا رہے ہیں حالانکہ محکمہ خوراک سندھ کے پاس گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ اگر بروقت گندم فراہم نہ کی گئی تو فلور ملوں کی پیداواری صلاحیت بری طرح متاثر ہو گی اور مارکیٹ میں آٹے کی دستیابی کم ہو سکتی ہے۔
فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق سیکرٹری خوراک سندھ کے ساتھ پیر کو ہونے والے اجلاس میں ان مسائل کے حل کے لیے حکومت کو ایک دن کی مہلت دی گئی ہے۔ ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ اگر اس دوران گندم کا اجرا شروع نہ ہوا تو سندھ اور کراچی میں آٹے کی قلت کے خدشات مزید بڑھ جائیں گے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق صرف کراچی میں اس وقت تقریباً 100 فلور ملیں فعال ہیں، جنہیں مسلسل گندم کی فراہمی درکار ہے۔ سندھ حکومت نے فی فلور مل 16 ہزار 600 بوریاں گندم کا کوٹہ مقرر کر رکھا ہے، تاہم اس کوٹے کے مطابق گندم نہ ملنے کے باعث فلور مل مالکان شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
فلور ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کے اجرا میں شفافیت اور تسلسل کو یقینی بنایا جائے تاکہ آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھا جا سکے اور عوام کو کسی ممکنہ بحران سے بچایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق گندم کے آٹے کی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت (Punjab Government)نے یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی سرکاری تعطیلات کے پیش نظر صوبے کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن مقررہ تاریخ سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں اور واجب الاؤنسز 31 جولائی کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے تمام پنشنرز کو بھی اسی روز جولائی کی پنشن جاری کر دی جائے گی۔
محکمہ خزانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب (Governor of Punjab) نے 31 جولائی کو تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ تعطیلات کے باعث ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
فیصلے پر عملدرآمد کے لیے محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب (Accountant General Punjab)، تمام ضلعی ٹریژری دفاتر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔
حکام کے مطابق یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے اور انہیں مالی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔