تنویر پاستا کی نئے آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کو مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر)سندھ پولیس کے نئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) جاوید عالم اوڈھو اور ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی تقرری پر کاروباری رہنماؤں سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔اس حوالے سے گل پلازہ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر، پاستا گروپ کے چیف ایگزیکٹو اور آر جے گروپ کے ڈائریکٹر محمد تنویر پاستا نے جاوید عالم اوڈھو کو آئی جی سندھ کا منصب سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ جاوید عالم اوڈھو کی بصیرت افروز قیادت میں سندھ پولیس عوامی خدمت، پیشہ ورانہ کارکردگی اور فرض شناسی کے نئے معیار قائم کرے گی۔ تنویر پاستا نے نئے آئی جی سندھ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہوگی۔تنویر پاستا نے مزید کہا کہ اس وقت کراچی کی کاروباری برادری کو مختلف مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے اور امید ہے کہ نئے آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کی کاروباری برادری کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ان مسائل کے حل کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کریں گے تاکہ تاجروں کو درپیش مشکلات کا جلد ازالہ ہو سکے۔ تنویر پاستا نے آزاد خان کو ایڈیشنل آئی جی کراچی کے عہدے پر تعینات ہونے پر بھی دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد خان ایک تجربہ کار، دیانتدار اور پیشہ ور پولیس افسر ہیں اور توقع ہے کہ ان کی قیادت میں کراچی میں امن و امان کے قیام، جرائم کے خاتمے اور شہریوں بالخصوص تاجر برادری کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔تنویر پاستا نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاوید عالم اوڈھو اور آزاد خان کو ان اہم ذمے داریوں میں کامیابی عطا فرمائے اور ان کی قیادت میں سندھ خصوصاً کراچی کو ایک محفوظ، پر امن اور کاروبار دوست شہر بنانے میں نمایاں بہتری آئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایڈیشنل ا ئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو تنویر پاستا نے قیادت میں کہا کہ ا
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔