سندھ رینجرز کے سال 2025ء میں مختلف آپریشنز کی تفصیلات جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
مجموعی طور پر 598 آپریشنز کیے گئے اور 126 دہشتگردوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں بدنام زمانہ انعام اللہ عرف لالا، نعیم اللہ عرف عمر زالی، محمد طیب عرف محمد (فتنہ الخوارج حافظ گل بہادر گروپ)، عبدالرحمان عرف عبداللہ عرف چارلی (بی ایل اے ) اور اللہ خان عرف عبداللہ محسود (فتنہ الخوارج نور ولی عرف ابو عاصم گروپ) وغیرہ شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ رینجرز نے سال 2025ء میں مختلف آپریشن بھرپور طریقے سے انجام دیئے اوراپنے بیشتر اہداف حاصل کیے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ رینجرز نے سال 2025ء میں دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری کے خلاف 672 آپریشنز کیے، مختلف کارروائیوں کے دوران 227 ہائی پروفائل ملزمان کو گرفتار کرکے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا گیا۔ پاکستان رینجرز (سندھ) نے پولیس کے ساتھ کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف مشترکہ 58 کارروائیوں کے دوران کچے کے علاقے سے 146 ملزمان کو گرفتارکیا۔ سال 2025ء میں ڈکیتی، اسٹریٹ کرائم، منشیات فروشی اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف مجموعی طور پر 3413 آپریشنز کیے۔
سندھ رینجرز کی جانب سے اسمگلنگ کے خلاف دیگر کارروائیوں کے دوران 8 ارب روپے مالیت کی اسمگل شدہ اشیاء برآمد کی گئیں، غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس / پانی چوری کے خلاف 212 آپریشن کے دوران 59 غیر قانونی بور، 460 پانی کے غیر قانونی کنکشن، 32 ہائیڈرنٹس کو مسمار کرکے 113 ملزمان کو حراست اور 88 واٹر ٹینکرز بھی قبضے میں لیے گئے۔ پرائم منسٹر اسپیشل ٹاسک فورس کے تحت غیر قانونی تجاوزات کے خلاف 34 آپریشن کے دوران کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم اتھارٹی کی 157 ایکڑ زمین واہ گزار کروا کر متعلقہ اداروں کے حوالے کی گئی جس کی مالیت 94 ارب روپے ہے۔
دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 598 آپریشنز کیے گئے اور 126 دہشتگردوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں بدنام زمانہ انعام اللہ عرف لالا، نعیم اللہ عرف عمر زالی، محمد طیب عرف محمد (فتنہ الخوارج حافظ گل بہادر گروپ)، عبدالرحمان عرف عبداللہ عرف چارلی (بی ایل اے ) اور اللہ خان عرف عبداللہ محسود (فتنہ الخوارج نور ولی عرف ابو عاصم گروپ) وغیرہ شامل ہیں، ان تمام دہشتگردوں کو پولیس کے حوالے کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق اغواء برائے تاوان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 11 اغواکاروں کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں اغواء کار وسیم اور نیکسن مسیح کے علاوہ مزار قائدؒ کے قریب سے ایک اغواء کار گروپ کو جن میں عامر، بلال، فیصل رانا، گلزاراں شبیر اور گروپ کے سرغنہ محمد نعمان کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کیا گیا۔
کراچی اور اندرون سندھ منشیات فروشی کے خلاف مختلف آپریشن کے دوران 468.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کارروائیوں کے دوران کو گرفتار کیا فتنہ الخوارج آپریشنز کیے عرف عبداللہ سال 2025ء میں کے حوالے کی آپریشنز کی ملزمان کو اللہ عرف کلو گرام کے خلاف کیا گیا
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔