پاراچنار میں مدافعان حرم اور قومی شہداء کی یاد میں عظمت شہداء کانفرنس کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: سابق سینیٹر علامہ سید عابد الحسینی نے اپنے خطاب میں شہادت کی درجہ بندی کی اور کہا کہ ایک شخص کسی ظالم و جارح سے اپنی جان کے دفاع میں مارا جاتا ہے۔ کوئی دوسرا شخص اپنے پورے خاندان کا دفاع کرتے ہوئے مظلوم مارا جاتا ہے، اسی طرح ایک شخص اپنے ملک کا دفاع کرتا ہے اور ایک شخص پوری امت مسلمہ کیلئے اپنی ملکی سرحدوں سے دور دشمنان خدا کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوتا ہے۔ یقینا ان سب کا درجہ اور مرتبہ ایک جیسا نہیں۔ چنانچہ قاسم سلیمانی، اسماعیل ہنیہ، حسن نصراللہ اور یحییٰ سنوار کا مرتبہ بہت اعلیٰ ہے۔ جنہوں نے ایک مقصد کی خاطر بلکہ امت مسلمہ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ چنانچہ انکے مراتب کا کسی اور سے موازنہ نہیں بنتا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: ایس این حسینی
5 جنوری 2026ء کو تحریک حسینی کے سرپرست اعلیٰ سابق سینیٹر علامہ سید عابد الحسینی کی سرپرستی میں تحریک حسینی کے زیراہتمام مدرسہ رہبر معظم پاراچنار میں عظمت شہداء کانفرنس کے عنوان سے مدافعان حرم اور قومی شہداء کی یاد میں ایک خوبصورت پروگرام کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں علاقائی عوام اور عمائدین کے علاوہ قومی نمائندگان، اراکین انجمن حسینیہ، ایم ڈبلیو ایم کے ضلعی صدر و اراکین، آئی ایس او اور آئی او سمیت متعدد سیاسی اور سماجی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔ پروگرام کے آغاز کے لئے تحریک حسینی کے نائب صدر علامہ سید امین شاہ نے ابتدائی کلمات کے بعد مدرسہ ہذا کے طالب علم قاری علی رضا کو دعوت دی۔ جنہوں نے اپنی شیرین آواز میں تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا۔ تلاوت کے بعد منقبت کی صورت میں شہداء کو خراج پیش کرنے کے لئے طالب علم مبشر حسین اور اس کے ساتھیوں کو دعوت دی گئی۔ جنہوں نے بہت ہی خوبصورت انداز میں شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔
مدرسہ ہذا کے سابق طالب علم اور تحریک حسینی کے کونسل رکن علامہ محمد اللہ کو دعوت خطاب دی گئی، جنہوں نے ہر علاقے کے متعلقہ شہداء کو ان کا اصل ہیرو اور محافظ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اہلیان کرم اگرچہ بہت ہی امتحان سے گزر رہے ہیں۔ تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔ تاہم آج تک جس طرح عزت و احترام کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، وہ انہی شہداء کا مرہون منت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپر کرم سے ہجرت کرنے والے بعض لوگ بار بار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہمارے 52 دیہات کو زبردستی بیدخل کرایا گیا ہے اور حکومت بھی انہی کے دعووں کو تسلیم کرتی ہے۔ حالانکہ یہ جتنے بھی لوگ مہاجر ہوئے ہیں، ان میں سے ایک بھی یہاں کا مستقل اور بندوبستی باشندہ نہیں۔ طوری بنگش علاقوں میں بطور مزارعین آباد ہونے کے بعد قابض ہوچکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ ان کا ان علاقوں سے کوئی مستقل تعلق نہیں تھا۔ چنانچہ جب طالبان کی طرف سے اس علاقے پر لشکرکشی ہوئی تو انہوں نے شروع میں تو انہیں ہر طرح کی سہولت فراہم کی اور طوری بنگش قبائل کا خوب نقصان کروایا، تاہم جب طوری بنگش قبائل نے اپنے دفاع کے لئے کارروائی شروع کی تو طالبان اور دیگر شرپسندوں کے ساتھ یہ مکار سہولت کار بھی یہاں سے چلے گئے۔ حالانکہ ان پر کسی نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے، بلکہ انہی شرپسندوں نے ہمیشہ سے مقامی لوگوں نیز حکومتی اہلکاروں پر جبروتشدد اور زیادتی کی ہے۔ اس کے بعد تحریک حسینی کے رکن ذاکر محمد افضل نے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شاعر سردار علی شعلہ کا خوبصورت کلام پیش کیا۔
انجمن حسینیہ کے رکن پرنسپل امان علی صاحب کو دعوت خطاب دی گئی، تو انہوں نے فلسفہ شہادت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے واقعہ کربلا کا اصل فلسفہ بھلا دیا ہے۔ کربلا سے ہم نے صرف علم اور ذوالجناح ہی کو اخذ کیا ہے۔ شہداء کو ہم نے صرف پروگراموں تک محدود کر رکھا ہے، حالانکہ یہ درست نہیں۔ کربلا ایک درسگاہ ہے۔ ہمیں وہ درس یاد رکھنا چاہیئے، جو ہمیں ان سے ملا ہے۔ شہید کی شہادت پر غم منانے اور قرآن خوانی کی بجائے ہمیں ان کے بچوں کی تربیت پر دھیان دینا چاہیئے۔ شہداء کے بچے اگر گلیوں میں سوال کرتے رہیں یا وہ چرس اور آئس کے عادی بنتے جائیں تو گویا شہید نے اپنے بچوں کے ساتھ جبکہ ہم نے شہید کے خون کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
مدرسہ ہذا کے سینیئر استاد اور تحریک حسینی کے نائب صدر آقائ سید امین شاہ نے اپنے خطاب میں فلسفہ شہادت کو اپنا موضوع سخن بناتے ہوئے اس حدیث سے تمسک کیا کہ "ہر نیکی سے بڑھ کر ایک نیکی موجود ہے، تاہم شہادت سے بڑھ کر کوئی نیکی موجود نہیں۔" انہوں نے کہا، شہادت ہی وہ ذریعہ ہے، جس سے اقوام کی آبیاری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس دور میں دنیا کی سطح پر شیعہ حقوق کا واحد محافظ نظام، نظام اجتہاد اور نظام ولایت ہے اور یہی نظام اجتہاد آج کل ایمان اور نفاق کا مقیاس اور ترازو ہے۔ مولا علی کے زمانے میں لوگوں کے ایمان و نفاق کو مولا علی کی محبت اور بغض سے پہچانا جاتا تھا۔ آج ایمان و نفاق کا مقیاس رہبر معظم اور مجتہدین ہیں۔ جو رہبر سے محبت رکھتا ہوگا، وہ استعمار اور استکبار سے نفرت کر رہا ہوگا اور جو رہبر سے بغض رکھتا ہوگا، اس کا قبلہ امریکہ و اسرائیل اور مغرب ہوگا۔
تحریک کے سپریم لیڈر اور سابق سینیٹر علامہ سید عابد الحسینی نے اپنے خطاب میں شہادت کی درجہ بندی کی اور کہا کہ ایک شخص کسی ظالم و جارح سے اپنی جان کے دفاع میں مارا جاتا ہے۔ کوئی دوسرا شخص اپنے پورے خاندان کا دفاع کرتے ہوئے مظلوم مارا جاتا ہے، ان دونوں کے مراتب میں فرق ہے۔ اسی طرح ایک شخص اپنے گاؤں کا دفاع کرتا ہے، دوسرا اپنے پورے علاقے کا دفاع کرتے ہوئے مارا جاتا ہے۔ ان دونوں کے درجات میں فرق ہے۔ اسی طرح ایک شخص اپنے ملک کا دفاع کرتا ہے، جیسے ہمارے قومی ہیروز عزیز بھٹی، راشد منہاس اور کرنل شیر خان شہید ہیں اور ایک شخص پوری امت مسلمہ کیلئے اپنی ملکی سرحدوں سے دور دشمنان خدا کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوتا ہے۔
یقیناً ان سب کا درجہ اور مرتبہ ایک جیسا نہیں۔ چنانچہ قاسم سلیمانی، اسماعیل ہنیہ، حسن نصراللہ اور یحییٰ سنوار کا مرتبہ بہت اعلیٰ ہے۔ جنہوں نے ایک مقصد کی خاطر بلکہ امت مسلمہ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ چنانچہ ان کے مراتب کا کسی اور سے موازنہ نہیں بنتا۔ ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء سید سرفراز علی شاہ نے ام المصائب علیاء مکرمہ کے مصائب پڑھے اور آخر میں صدر تحریک حسنی ماسٹر یونس علی نے سب شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور تمام معزز مہمانوں کی پذیرائی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ تحریک حسینی کے امت مسلمہ کی مارا جاتا ہے کرتے ہوئے علامہ سید شخص اپنے شہداء کو جنہوں نے رہے ہیں کے ساتھ کو دعوت نے اپنے پیش کیا کی خاطر کا دفاع ایک شخص کے بعد
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام
یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔
ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ
ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان