حکومت پنجاب کا نفرت پھیلانے والوں کےلئے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ آئمہ مساجد کیلئے اعزازیہ سکیم کا مقصد امن، ہم آہنگی اور قومی وحدت کا فروغ ہے، قانون کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی، نفرت انگیز مواد یا تقاریر ثابت ہونے پر فہرست سے فوری اخراج ہوگا، سکیورٹی اور انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر ابتدائی جانچ پڑتال مکمل کرلی گئی ہے، صوبے کے 66 ہزار امام مسجد تمام قانونی تقاضے پورے کرنے پر کلیئر قرار دے دیئے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ اعزازیہ صرف ذمہ دار اور قانون کے پابند علماء کو دیا جائے گا، نفرت پھیلانے والوں کیلئے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے محکمہ داخلہ کی تجاویز پر پالیسی کی منظوری دے دی ہے، جس کے مطابق ریاست مخالف بیانیہ اختیار کرنیوالے افراد کے اعزازیے فوری بند اور سخت کارروائی ہو گی۔ محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ آئمہ مساجد کیلئے اعزازیہ سکیم کا مقصد امن، ہم آہنگی اور قومی وحدت کا فروغ ہے، قانون کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی، نفرت انگیز مواد یا تقاریر ثابت ہونے پر فہرست سے فوری اخراج ہوگا، سکیورٹی اور انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر ابتدائی جانچ پڑتال مکمل کرلی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق صوبے کے 66 ہزار امام مسجد تمام قانونی تقاضے پورے کرنے پر کلیئر قرار دے دیئے گئے ہیں، ان کے خلاف کوئی ریاست مخالف سرگرمی ثابت نہیں ہو سکی۔ اعزازیہ فہرست کی باقاعدہ اسکریننگ اور مانیٹرنگ جاری رہے گی، مستقبل میں بھی اعزازیہ دینے سے پہلے سخت جانچ پڑتال ہوگی، امن عامہ متاثر کرنے والے عناصر کی سرکاری سرپرستی نہیں ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ پنجاب حکومت کا انتہا پسندی کے خلاف سخت مؤقف ہے، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ناگزیر قرار دیا گیا ہے، اعزازیہ اسکیم کا غلط استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا، قانون کے دائرے میں رہ کر مذہبی سرگرمیوں کی مکمل آزادی برقرار ہوگی، ریاست مخالف بیانیے کی کوئی گنجائش نہیں، واضح پالیسی بیان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محکمہ داخلہ پنجاب کا
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔