پنجاب کو زیادہ حصہ ملنے کا تاثر غلط، عوام کا پیسہ عوام پر ہی لگایا جاتا ہے، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب کو زیادہ حصہ ملنے کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے جبکہ ہر صوبے کو برابر کا شیئر مل رہا ہے، طلبا اس بہکاوے میں نہ آئیں کیونکہ ہم عوام کا پیسہ عوام پر لگاتے ہیں جبکہ دیگر صوبوں میں یہی فرق ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد نے ملاقات کی۔ نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد میں بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء اور طالبات شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے وفد میں شامل تمام طلبہ کو لیپ ٹاپ دینے کا اعلان کیا اور وزیراعلیٰ کی جانب سے طلبا کو بلوچ چادرپہنائی گئی۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں لوگ دیگر صوبوں سے روزگار اور بہتر مواقع کی تلاش میں آتے ہیں، ہم نے سب کیلئے دل کے دروازے کھولے ہیں، اسپتالوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سب صوبوں کے لوگ مستفید ہورہے ہیں، پنجاب کے چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام سے دوسرے صوبوں سے آنے والے بچے بھی مستفید ہوئے، ہزار بیڈ کا نواز شریف کینسر ہسپتال اس لیے بنایا تاکہ پنجاب ہی نہیں پاکستان بھر کے لوگ مستفید ہوں، کبھی سندھی، پنجابی یا کشمیری کا فرق نہیں رکھا، ہم سب پاکستانی ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں دیگر انفرا اسٹرکچر اور ترقی کا فرق واضح نظر آتا ہے، پنجاب کو زیادہ شیئر ملنے کا پروپیگنڈا غلط ہے، ہر صوبے کو شیئر مل رہا ہے، پنجاب کے پاس پیسے ہیں طلباء کبھی اس بہکاوے میں نہ آئیں، پنجاب میں عوام کا پیسہ عوام پر ہی لگایا جاتا ہے دوسرے صوبوں سے یہی فرق ہے، گڈگورننس سے بہتر کوئی سیاست نہیں ہوسکتی، سیاست پروٹوکول لینے کا نام نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور محنت کرنے کا کام ہے۔
مزید پڑھیںپنجاب حکومت کا ریاست مخالف بیانات دینے والے علما کیخلاف کارروائی کا فیصلہ، اعزازیہ بھی بند ہوگا
سال نو کے پہلے روز پنجاب حکومت نے 9 سرکاری محکمے ختم کردیے
پنجاب حکومت کی مہمان نوازی سب نے دیکھ لی جہاں سہیل آفریدی کی آمد پر رکاوٹیں لگادی گئیں، کے پی حکومت
انہوں ںے کہا کہ پنجاب میں سفارش اور رشوت کا کلچر ختم کر دیا، ماضی میں یہاں پیسے لے کر کام ہوتے تھے، حلفاً کہہ سکتی ہوں کوئی بھی افسر سفارش پرنہیں لگایا، ماضی میں ہراسانی، ریپ اور قتل کے واقعات تواتر سے ہورہے تھے، پنجاب کے آئی جی محنتی اور پروفیشنل آفیسر ہیں،اب کئی شہروں میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں، پنجاب میں کرائم کی شرح اب 100 سے 30 فی صد پر آچکی ہے، اب سڑک پر کوئی ہیلمٹ کے بغیر نظر نہیں آتا، شہباز شریف نے لاہور میں پہلا سیف سٹی بنایا اب پورے پنجاب کو سیف سٹی بنا دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2016ء میں نواز شریف نے آئی ایم ایف کو الوداع کہہ دیا تھا، 2018ء میں اسے واپس کون لایا؟ سب جانتے ہیں، جن کی سیاست کا محور دوسروں کو چور، ڈاکو قرار دینا ہو وہ اکانومی کو کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟ مانیٹرنگ اور چیکنگ نہ ہو تو کوئی کام نہیں کرتا، جب تک پوری کوشش نہ کی جائے پراجیکٹ برقرار نہیں رہ سکتا، اگر سڑک اور بجلی نہیں ہوگی تو لوگ انڈسٹری کیسے اور کیوں لگائیں گے؟
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں لون لے کر ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی، انفرا اسٹرکچر بنے گا تو ترقی آئے گی،قرض لیا پیسا اپنے اوپر لگایا یا عوام پر لگایا اسی سے فرق پڑتا ہے، انسان فیصلہ کرے کہ کام کرکے چھوڑنا ہے تو کام ہوجاتے ہیں، پیسے نہیں ہیں ورنہ عوام کے لئے اور بہت کچھ کرنا چاہتی ہوںِ، جھوٹے بہکاوے میں نہ آئیں، آپ کا پیسا آپ پر ہی لگنا چاہیے، کسی صوبے کو زیادہ پیسے نہیں ملتے، اپنی حکومت سے تہذیب اور تمیز کے ساتھ سوال ضرور پوچھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مریم نواز نواز شریف کہ پنجاب پنجاب کو کو زیادہ شریف نے عوام پر نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔