اچھی گورننس سے بڑھ کر کوئی سیاست نہیں، صوبوں میں تفریق نہیں کی: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
اچھی گورننس سے بڑھ کر کوئی سیاست نہیں، صوبوں میں تفریق نہیں کی: مریم نواز WhatsAppFacebookTwitter 0 5 January, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی اس ) وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ اچھی گورننس سے بڑھ کر کوئی سیاست نہیں ہے، صوبوں میں تفریق نہیں کی۔صوبائی دارالحکومت میں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ آپ سے مل کر خوشی ہوئی، بلوچ طلبہ ہمارے مہمان ہیں، جب مجھے معلوم ہوا کہ آپ ملنا چاہ رہے ہیں تو میں نے فورا میٹنگ کا کہا۔انہوں نے کہا کہ آبادی کے لحاظ سے صوبہ پنجاب سب سے بڑا ہے، اِس کو زیادہ پیسے ملنے کی بات غلط ہے
، آبادی کے لحاظ سے صوبوں کو وفاق سے فنڈز ملتا ہیایسی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔وزیراعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ اچھی گورننس سے بڑھ کر کوئی سیاست نہیں، میں نے کبھی کسی دوسرے صوبوں کے طلبہ میں تفریق نہیں کی ، ہمیں پنجابی ، سندھی بلوچی کی تفریق نہیں کرنی، اِس سے ملک کمزور ہوتا ہے، پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تمام صوبوں کے بچے پڑھتے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں سفارش کلچر ختم کردیا ہے ، یہاں میرٹ پر تقرریاں کی جارہی ہیں، یہاں پچھلے پانچ سال سے یہ برائیاں چل رہی تھیں، بلا تفریق عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں، پنجاب کا پیسہ یہاں کے عوام پر لگ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے ایسے علاقے بھی ہیں جہاں کئی کئی روز کسی جرم کی اطلاع نہیں ملتی، سی سی ڈی کی کارروائیوں کے باعث ہراسانی کے واقعات میں بھی واضح کمی ہوئی ہے، سی سی ڈی نے جو کام کیا اس کی مثال نہیں ملتی،
خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ترجیح ہے۔وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ اپنا گھر سکیم کے تحت روزانہ کی بنیاد پر 500 گھر تعمیر ہورہے ہیں، اب تک 65 ہزار گھر بن چکے ہیں، ہمارے دروازے دوسرے صوبوں کے لیے کھلیں ہیں، ملک کا مستقبل آپ نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو کبھی اس بہکاوے میں نہیں آنا، آپ پاکستان کا جھنڈا اٹھانے والے لوگ ہیں، پاکستان کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں پہلی بار ایئر ایمبولنس شروع کی گئی، پورے صوبے میں سڑکوں کا جال بچھایا، سیف سٹیز کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے، اپنی مدت کے دوران صوبے میں امراض قلب کے ہسپتال بنانے جا رہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت نے فوری طور پر احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کی، ایران حکومت نے فوری طور پر احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کی، ایران برفباری کے دوران جان و مال کا تحفظ کیلئے انتظامیہ متحرک رہی،ڈی پی او مری آئی ایم ایف سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا، حکومت نے مالی جھٹکوں سے بچنے کیلئے نیا نظام متعارف کرادیا وینزویلا کے سیاسی بحران کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرگئیں بھارت نے یاسین ملک کی جان لینے کی کوشش تو وہ دھماکا ہوگا کہ سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے، مشعال ملک پتنگ بازی کی اجازت کا نوٹیفکیشن، پولیس حکام کو حفاظتی پلان پیش کرنے کی ہدایتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں تفریق نہیں کی کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے کہا
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔