امریکا کا وینزویلا پر حملہ، جیک رائن کی کہانی 6 سال بعد حقیقت بن گئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
امریکی افواج کی جانب سے وینزویلا میں اچانک کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری نے غیر متوقع طور پر مشہور ٹی وی سیریز جیک رائن کے سیزن 2 کے ایک منظر کو دوبارہ خبروں کی زینت بنا دیا۔
مذکورہ سیزن کا 6 سال پرانا ویڈیو کلپ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک بار پھر اس قدر وائرل ہو چکا ہے کہ ناظرین اسے آج کی جغرافیائی سیاسی صورتحال سے حیران کن حد تک مشابہ قرار دے رہے ہیں۔
وینزویلا کی حکومت کے خاتمے کے بعد انٹرنیٹ صارفین نے 2019 میں ریلیز ہونے والی ٹام کلینسی کی سیریز جیک رائن کے سیزن 2 کو دوبارہ موضوعِ بحث بنا دیا، جس کی وجہ یہ ہے کہ سیریز میں دکھایا گیا منظر محض اندازہ نہیں بلکہ حالیہ امریکی کارروائی کا مکمل خاکہ معلوم ہوتا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Armando Pantoja (@tallguytycoon)
اس وقت سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا منظر کوئی ایکشن سین نہیں بلکہ ایک طویل مکالمہ ہے، جس میں سی آئی اے کے تجزیہ کار جیک رائن (اداکار جان کراسنسکی) واشنگٹن کی اشرافیہ سے خطاب کرتے ہوئے عالمی خطرات سے متعلق روایتی سوچ کو چیلنج کرتے ہیں۔
وائرل ویڈیو میں جیک رائن سوال کرتے ہیں کہ آپ کے خیال میں عالمی سطح پر سب سے بڑا خطرہ کون سا ملک ہے؟’
مکالمے کے دوران شرکاء روس، چین اور شمالی کوریا کے نام لیتے ہیں، تاہم جیک رائن گفتگو کا رخ وینزویلا کی جانب موڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وینزویلا کے لیے کوئی امیدوار؟ کوئی؟ نہیں؟ سب مطمئن ہیں کہ وینزویلا کوئی خطرہ نہیں؟ اچھا، یہ بتائیں کہ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کس کے پاس ہیں؟ سعودی عرب اور ایران سے بھی زیادہ، اور سونا؟ افریقہ کی تمام کانوں سے بھی زیادہ
اس کے بعد جیک رائن وینزویلا کے وسیع تیل، سونے اور معدنی وسائل کی تفصیل بیان کرتے ہیں، جنہیں سعودی عرب، ایران اور عراق سے بھی زیادہ قرار دیا جاتا ہے۔ پھر وہ اس تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اتنے وسائل کے باوجود ملک کس طرح شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔
جیک رائن کا نتیجہ اخز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وینزویلا کمزور نہیں بلکہ حد درجہ قیمتی ملک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وینزویلا تیل اور معدنی وسائل کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا خزانہ ہے، اور خبردار کرتے ہیں کہ امریکا کے قریب واقع ایک کمزور ریاست عالمی طاقتوں کے لیے مداخلت کی کھلی دعوت بن سکتی ہے۔
اس منظر کی دوبارہ مقبولیت کے بعد صارفین اسے فکشن اور حقیقت کے درمیان حیران کن مماثلت قرار دے رہے ہیں۔ تاہم 6 سال قبل اس منظر کو ناقدین نے حقارت آمیز، کھلی جنگی تشہیر اور نیوکنزرویٹو کا خواب قرار دیا تھا، مگر آج یہی منظر ایک لیک ہونے والی خفیہ بریفنگ جیسا محسوس ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرتے ہیں جیک رائن ہیں کہ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم