امریکی افواج کی جانب سے وینزویلا میں اچانک کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری نے غیر متوقع طور پر مشہور ٹی وی سیریز جیک رائن کے سیزن 2 کے ایک منظر کو دوبارہ خبروں کی زینت بنا دیا۔

مذکورہ سیزن کا 6 سال پرانا ویڈیو کلپ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک بار پھر اس قدر وائرل ہو چکا ہے کہ ناظرین اسے آج کی جغرافیائی سیاسی صورتحال سے حیران کن حد تک مشابہ قرار دے رہے ہیں۔

وینزویلا کی حکومت کے خاتمے کے بعد انٹرنیٹ صارفین نے 2019 میں ریلیز ہونے والی ٹام کلینسی کی سیریز جیک رائن کے سیزن 2 کو دوبارہ موضوعِ بحث بنا دیا، جس کی وجہ یہ ہے کہ سیریز میں دکھایا گیا منظر محض اندازہ نہیں بلکہ حالیہ امریکی کارروائی کا مکمل خاکہ معلوم ہوتا ہے۔

View this post on Instagram

A post shared by Armando Pantoja (@tallguytycoon)


اس وقت سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا منظر کوئی ایکشن سین نہیں بلکہ ایک طویل مکالمہ ہے، جس میں سی آئی اے کے تجزیہ کار جیک رائن (اداکار جان کراسنسکی) واشنگٹن کی اشرافیہ سے خطاب کرتے ہوئے عالمی خطرات سے متعلق روایتی سوچ کو چیلنج کرتے ہیں۔

وائرل ویڈیو میں جیک رائن سوال کرتے ہیں کہ آپ کے خیال میں عالمی سطح پر سب سے بڑا خطرہ کون سا ملک ہے؟’

مکالمے کے دوران شرکاء روس، چین اور شمالی کوریا کے نام لیتے ہیں، تاہم جیک رائن گفتگو کا رخ وینزویلا کی جانب موڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وینزویلا کے لیے کوئی امیدوار؟ کوئی؟ نہیں؟ سب مطمئن ہیں کہ وینزویلا کوئی خطرہ نہیں؟ اچھا، یہ بتائیں کہ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کس کے پاس ہیں؟ سعودی عرب اور ایران سے بھی زیادہ، اور سونا؟ افریقہ کی تمام کانوں سے بھی زیادہ

اس کے بعد جیک رائن وینزویلا کے وسیع تیل، سونے اور معدنی وسائل کی تفصیل بیان کرتے ہیں، جنہیں سعودی عرب، ایران اور عراق سے بھی زیادہ قرار دیا جاتا ہے۔ پھر وہ اس تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اتنے وسائل کے باوجود ملک کس طرح شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔

جیک رائن کا نتیجہ اخز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وینزویلا کمزور نہیں بلکہ حد درجہ قیمتی ملک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وینزویلا تیل اور معدنی وسائل کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا خزانہ ہے، اور خبردار کرتے ہیں کہ امریکا کے قریب واقع ایک کمزور ریاست عالمی طاقتوں کے لیے مداخلت کی کھلی دعوت بن سکتی ہے۔

اس منظر کی دوبارہ مقبولیت کے بعد صارفین اسے فکشن اور حقیقت کے درمیان حیران کن مماثلت قرار دے رہے ہیں۔ تاہم 6 سال قبل اس منظر کو ناقدین نے حقارت آمیز، کھلی جنگی تشہیر اور نیوکنزرویٹو کا خواب قرار دیا تھا، مگر آج یہی منظر ایک لیک ہونے والی خفیہ بریفنگ جیسا محسوس ہو رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کرتے ہیں جیک رائن ہیں کہ

پڑھیں:

خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر نئی پابندیوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پہلی مرتبہ مئی کے آخر کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے سودے 6.58 ڈالر یعنی تقریباً 7 فیصد اضافے کے بعد 100.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی، عالمی منڈی میں خام تیل 5 فیصد مہنگا ہو گیا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حوثی بحیرہ احمر کے راستے باب المندب سے کن بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتے ہیں اور کنہیں نشانہ بناتے ہیں۔

حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے آنے والے تیل بردار جہازوں کی بحری ناکہ بندی کریں گے اور سعودی عرب، اسرائیل اور امریکا سے وابستہ آئل ٹینکروں کو باب المندب میں نشانہ بنائیں گے۔

The Houthi rebels of Yemen have resumed their attacks on Red Sea shipping, helping push oil prices above $100 a barrel for the first time in two months. Here's what to know https://t.co/z1WTQNtx7z

— Bloomberg (@business) July 24, 2026

یہ آبی گزرگاہ بحیرہ احمر کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

جمعرات کو حوثیوں نے 2 سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ ان میں سے ایک جہاز میں آگ لگ گئی۔

تاہم دوسرے جہاز کی صورتحال فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں پھر کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

بحری تجزیاتی ادارے ونڈورڈ کی سینیئر میری ٹائم انٹیلیجنس تجزیہ کار مشیل بوکمین کے مطابق حوثیوں کی ناکہ بندی کی نوعیت ابھی پوری طرح واضح نہیں، اس لیے ماہرین خاص طور پر اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا چینی ملکیت کے آئل ٹینکر باب المندب سے بحفاظت گزر سکتے ہیں یا نہیں۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 20 جولائی کو سعودی خام تیل لے جانے والے 2 ایسے جہاز باب المندب سے گزرے جن کا عملہ اور منزل چین تھی اور انہیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثیوں کی کارروائیاں تیل کے بجائے جہازوں کی وابستگی کو مدنظر رکھ کر کی جا رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق حوثیوں نے ماضی میں بھی چین کے ساتھ نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا تھا، جبکہ 2023 سے 2025 کے دوران انہوں نے غزہ جنگ کے تناظر میں اسرائیل اور امریکا سے وابستہ تجارتی جہازوں کو متعدد بار نشانہ بنایا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی حکمت عملی غیر متوقع ہوتی ہے، تاہم وہ بخوبی جانتے ہیں کہ محدود کارروائیاں بھی عالمی تیل کی منڈی کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا کے ایران پر نئے حملے، تیل کی عالمی قیمتیں 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

سینٹر فار اے نیو امریکن سیکیورٹی سے وابستہ ماہر ریچل زیمبا کا کہنا ہے کہ باب المندب کا موجودہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد عالمی خام تیل کے ذخائر مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے۔

ان کے مطابق متعدد اہم بحری گزرگاہوں پر بیک وقت کشیدگی عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

ڈیزل کی قیمتوں پر بھی اثرات

ماہرین کے مطابق خام تیل کے ساتھ ساتھ ڈیزل کی قیمتیں بھی تیزی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 4.09 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی اوسط قیمت 5.34 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی۔

گیس بڈی کے پیٹرولیم تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کے مطابق موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ ایک سے 2 ہفتوں کے دوران امریکا میں پیٹرول کی قیمت میں مزید 10 سے 20 سینٹ فی گیلن اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی سپلائی پر دباؤ زیادہ ہے کیونکہ یوکرین کے ڈرون حملوں کے باعث روس کی متعدد آئل ریفائنریاں متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں روس نے ڈیزل کی برآمدات محدود کر دی ہیں۔

چین کا کردار بھی اہم

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی تیل مارکیٹ میں چین کا کردار بھی اہم ہوگا۔ حالیہ مہینوں میں چین نے خام تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کی، جس سے عالمی طلب پر دباؤ کم ہوا اور قیمتوں میں اضافے کی رفتار محدود رہی۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چین دوبارہ بڑے پیمانے پر خام تیل درآمد کرنا شروع کرتا ہے یا اپنے اسٹریٹجک ذخائر کے بجائے بیرونی خریداری بڑھاتا ہے تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، باب المندب اور آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال، روسی ریفائنریوں کی مشکلات اور امریکا میں آنے والے سمندری طوفانوں کا موسم، یہ تمام عوامل آئندہ ہفتوں میں عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آبنائے ہرمز امریکا باب المندب بحری گزرگاہوں پیٹرول چین حوثی خام تیل ڈالر فی گیلن ڈرون ڈیزل روس مشرق وسطیٰ یمن یوکرین

متعلقہ مضامین

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا