وینزویلا پر کنٹرول کے بعد ٹرمپ کی میکسیکو، کولمبیا اور کیوبا کو بھی دھمکیاں
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد لاطینی امریکا کے دیگر ممالک کے خلاف سخت بیانات دیے ہیں۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو دھمکی دی اور کہا کہ کولمبیا میں امریکی فوجی آپریشن ’’اچھا خیال‘‘ لگتا ہے۔
ٹرمپ نے کولمبیا کی صورتحال کو “خراب” قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہاں منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ جاری ہے، جسے زیادہ دیر برداشت نہیں کیا جائے گا۔
جب ان سے کولمبیا میں امریکی کارروائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ان کے لیے قابلِ قبول ہے۔
امریکی صدر نے کیوبا سے متعلق بھی سخت باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا کی حکومت کمزور ہو چکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ خود ہی گرنے کے قریب ہے۔
مزید پڑھیںصدر ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر کو بھی دھمکی دے دی
امریکی سینیٹر نے وینزویلا میں ٹرمپ کی فوجی کارروائی کو غیرقانونی قرار دے دیا
ان کے مطابق کیوبا کی معیشت بڑی حد تک وینزویلا کے تیل پر انحصار کرتی تھی، جو اب بند ہو چکا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا اس وقت وینزویلا کے معاملات میں ’کنٹرول‘ رکھتا ہے اور اگر وینزویلا نے تعاون نہ کیا تو دوبارہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے، حالانکہ وینزویلا کی سپریم کورٹ نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو عبوری صدر مقرر کر چکی ہے۔
اسی گفتگو میں ٹرمپ نے میکسیکو کو بھی خبردار کیا اور کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے میکسیکو کو ’اپنا نظام درست کرنا ہوگا‘، ورنہ امریکہ کو کوئی سخت دکھانا پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات لاطینی امریکا میں امریکی بالادستی کے اظہار کی ایک نئی کوشش ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔