پنجاب رواں سال گندم کی بہترین پیداوار کیلیے تیار، کسان کارڈ سے زرعی شعبے میں انقلاب برپا
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
لاہور:
پنجاب کی زرخیز سرزمین رواں سال گندم کی بہترین پیداوار کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے متعارف کردہ کسان کارڈ نے صوبے کی زراعت کی سمت یکسر بدل دی ہے اور کھیتوں میں اعتماد کی نئی فصل بو دی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کسان کارڈ کے تحت اب تک پنجاب کے کسانوں کو 100 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 65 ارب روپے عملی طور پر استعمال بھی ہو چکے ہیں۔ کسانوں نے ان قرضوں میں سے 47 ارب روپے صرف کھاد کی خریداری پر خرچ کیے، جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں نمایاں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
دسمبر کے مہینے میں یوریا کھاد کی فروخت نے پنجاب کی زرعی تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا، جب 13 لاکھ 56 ہزار میٹرک ٹن یوریا کھاد فروخت ہوئی۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں پنجاب کے کسانوں نے 37 فیصد زیادہ یوریا کھاد خریدی، جو کسانوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور زرعی سرگرمیوں میں اضافے کا واضح ثبوت ہے۔
مزید پڑھیںآئی ایم ایف کی ایک اور شرط؛ حکومت کا گندم کی خریداری کے عمل سے باہر نکلنے کا فیصلہ
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ کسان کارڈ نے نہ صرف پنجاب کی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے بلکہ کسانوں کو سرمایہ، ٹیکنالوجی اور بااختیار مالی وسائل بھی فراہم کیے ہیں۔ ان کے مطابق اب پنجاب کے کسان کے ہاتھ میں سرمایہ بھی ہے، ٹیکنالوجی بھی، اور کسان کارڈ کے ذریعے استعمال کے لیے پیسہ بھی دستیاب ہے۔
مریم نواز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ کسان کی ترقی پاکستان کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، اور صوبائی حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود اور زرعی شعبے کی بہتری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔