وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے 3 روزہ دورۂ کراچی کا شیڈول جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی 9 سے 12 جنوری تک کراچی کا تین روزہ دورہ کریں گے، وہ 9 جنوری کو صبح 11 بجے ایئرپورٹ پہنچیں گے اور پہلے روز انصاف ہاؤس میں اہم ملاقاتیں کرنے کے بعد کراچی پریس کلب کا دورہ کریں گے۔
دورے کے دوسرے دن وزیراعلیٰ کراچی سے حیدرآباد روانہ ہوں گے جہاں وہ حیدرآباد بار سے خطاب کریں گے اور اسٹریٹ موومنٹ میں شریک ہوں گے، جبکہ تیسرے روز وہ کراچی بار سے خطاب کریں گے۔
اس دورے میں وزیراعلیٰ کے ہمراہ سلمان اکرم راجا، مینا خان آفریدی، شاہد خٹک اور شفیع جان بھی موجود ہوں گے۔
ادھر معاون خصوصی برائے اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی 9 جنوری کو اراکین اسمبلی کے ہمراہ سندھ کا دورہ کریں گے جہاں وہ پارٹی اسیرانِ جیل، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور پارٹی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
شفیع جان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ میں بار ایسوسی ایشن سے خطاب اور وزیراعلیٰ سندھ سے باضابطہ ملاقات بھی کریں گے، جبکہ اسٹریٹ موومنٹ کی قیادت خود سہیل آفریدی کر رہے ہیں اور کارکنان کو بھرپور سیاسی جدوجہد کے لیے متحرک کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کی قید سیاسی انتقام اور جمہوری اقدار کی خلاف ورزی ہے، اور عمران خان سمیت اسیر قیادت کی رہائی کے لیے ہر آئینی اور جمہوری فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سہیل آفریدی کریں گے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔