لاہور ہائیکورٹ: پتنگ بازی کی اجازت کا نوٹیفیکیشن، پولیس حکام کو حفاظتی پلان پیش کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
لاہور (خبر نگار) لاہور ہائیکورٹ نے پتنگ بازی کی اجازت کے نوٹیفکیشن پر پولیس حکام کو حفاظتی پلان پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ میں کائٹ فلائنگ آرڈیننس اور ڈی سی کی بسنت اجازت کے نوٹیفکیشن کے خلاف متفرق درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس ملک اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے موقف اختیار کیا کہ پتنگ بازی کے دوران شہریوں کے جان و مال کا تحفظ آئین کے تحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے لہذا عدالت سے استدعا کی کہ کائٹ فلائنگ آرڈیننس اور پتنگ بازی کی اجازت سے متعلق نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔عدالت نے ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل سے استفسار کیا کہ شہریوں کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور سیفٹی کو کیسے یقینی بنایا جائے گا، درخواست میں کچھ تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں جن میں ایک بچے کا گلا کٹا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔عدالت نے دوران سماعت ہدایت کی کہ آئی جی اور سی سی پی او رپورٹ لیکر یہ بتائیں کہ حفاظتی اقدامات کو کیسے ریگولیٹ کیا جائے گا۔دوران سماعت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین نے اعتراض کیا کہ آرڈیننس اب ایکٹ بن چکا ہے اس لیے درخواست قابل سماعت نہیں جس پر عدالت نے کہا کہ ایکٹ کے قانونی پہلو بعد میں دیکھے جائیں گے جبکہ درخواست شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے دائر کی گئی ہے۔بعدازاں عدالت نے ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل کو ہدایت دی کہ وہ آئی جی پنجاب اور سی سی پی او سے حفاظتی پلان لیکر پیش کریں اور سماعت کو مزید کارروائی کے لیے 16 جنوری تک ملتوی کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔