لاہور یونیورسٹی میں طلبا کی خودکشیوں کا المناک سلسلہ، آخر معاملہ ہے کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
لاہور یونیورسٹی میں طلبا کی جانب سے خودکشی کے واقعات نے تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت، تعلیمی دباؤ اور انتظامی کوتاہیوں کو شدید تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے، خود کشی کی ایک حالیہ کوشش کے واقعے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے کیمپس بند کرتے ہوئے تمام کلاسز آن لائن منتقل کردی ہیں۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے؛ 19 دسمبر 2025 میں ڈی فارمیسی کے ایک طالب علم اویس سلطان نے حاضری کی کمی اور مالی مسائل کی وجہ سے مبینہ طور پر خودکشی کرلی تھی، جس کے بعد گزشتہ روز یعنی 5 جنوری کو ایک اور طالبہ فاطمہ نے خودکشی کی کوشش کی۔
حالیہ واقعہ پر انکوئری کمیٹی تشکیلطالبہ فاطمہ کی خودکشی کی کوشش کے واقعے کے بعد یونیورسٹی آف لاہور کی انتظامیہ نے فوری طور پر کیمپس بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور آج سے تمام کلاسز آن لائن ہوں گی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ طلبا کی حفاظت اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، اس کے علاوہ، واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک 8 رکنی انکوائری کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور یونیورسٹی میں طالب علم کی خودکشی: واقعہ کب اور کیسے پیش آیا؟
کمیٹی کی سربراہی ڈین فیکلٹی آف لا جسٹس (ریٹائرڈ) محمد بلال خان کر رہے ہیں، جبکہ طالبہ فاطمہ کے کلاس فیلوز محمد عامر اور اسما ہان بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جس کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
فاطمہ نے خود کشی کی کوشش کیوں کی؟5 جنوری 2026 کو یونیورسٹی آف لاہور کے ڈی فارمیسی ڈیپارٹمنٹ میں پہلے سمسٹر کی طالبہ فاطمہ نے عمارت کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق، یہ ایک مبینہ خودکشی کی کوشش تھی، اور ابتدائی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ وجہ ڈومیسٹک مسائل اور والدین کی طرف سے مضمون کے انتخاب پر دباؤ تھا۔
فاطمہ نے واقعے سے قبل اپنے گھر والوں کو فون کال کی تھی، جس میں وہ پریشان رہیں، خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ فاطمہ کو خاندانی تناؤ کا سامنا تھا۔
مزید پڑھیں: لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش، کلاسز معطل
خودکشی کی کوشش میں زخمی فاطمہ کو فوری طور پر یونیورسٹی سے متصل ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں لاہور جنرل اسپتال لایا گیا، طبی رپورٹس کے مطابق، فاطمہ کی حالت تشویشناک ہے، کیونکہ وہ بے ہوش ہیں،۔
’سر میں شدید چوٹ آئی ہے، چھاتی میں ٹراما ہے کمر کی کچھ ہڈیاں اور گھٹنے میں فریکچر ہے، ریڑھ کی ہڈی اور پسلیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ وہ اب بھی آئی سی یو میں زیر علاج ہے‘
اسپتال نے ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا ہے، جس کی سربراہی پروفیسر جودت سلیم کر رہے ہیں۔ بورڈ 24 گھنٹے کے اندر اپنی رپورٹ دے گا، زخمی فاطمہ کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
یہ واقعہ ٹھیک اسی جگہ پیش آیا ہے جہاں چند روز قبل ڈی فارمیسی کے طالبعلم اویس سلطان نے بھی چوتھی منزل سے جان لیوا چھلانگ لگائی تھی ۔
اویس سلطان نے کیوں خود کشی کی تھی؟
یونیورسٹی آف لاہور میں یہ خودکشی کا پہلا واقعہ نہیں، 19 دسمبر2025 میں، ڈی فارمیسی کے 5ویں سمسٹر کے طالب علم اویس سلطان نے یونیورسٹی کی عمارت کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی، اویس کی موت فوری طور پر واقع ہو گئی۔
اویس کو یونیورسٹی کی سخت حاضری پالیسی کی وجہ سے شدید دباؤ کا سامنا تھا، ان کی حاضری 75 فیصد سے کم تھی، جس کی وجہ سے انہیں کلاسز سے نکالنے کی دھمکی دی گئی تھی اور سمسٹر ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
مزید پڑھیں: لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش، کلاسز معطل
خاندان اور ساتھی طلبا کا کہنا ہے کہ اویس مالی مسائل کا بھی شکار تھے، کیونکہ فیس کی ادائیگی میں مشکلات تھیں اور حاضری کی کمی کی وجہ سے تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا تھا۔
یہ واقعہ یونیورسٹی میں طلبا کے احتجاج کا باعث بھی بنا، جس کے نتیجے میں ایک پروفیسر کو برطرف کر دیا گیا، اویس کی موت نے پاکستان کے تعلیمی نظام میں ذہنی صحت کی کمی کو اجاگر کیا، جہاں طلبا کو مالی اور تعلیمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا موقفیونیورسٹی آف لاہور کی انتظامیہ نے ان واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے کلاسز کو آن لائن منتقل کر دیا اور کیمپس کو عارضی طور پر بند کر دیا۔ رجسٹرار نے ایک بیان میں کہا کہ یونیورسٹی پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور طلبا کی ذہنی صحت کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔
اویس سلطان کے کیس کے بعد، طلبا کے احتجاج پر ایک پروفیسر کو برطرف کر دیا گیا جسے کم حاضری پر تنبیہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ فاطمہ کے واقعے کے بعد، 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ڈومیسٹک مسائل ہیں، لیکن وہ طلبا کے ساتھ ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں اور کاؤنسلنگ سروسز کو بہتر بنایا جارہا ہے۔
طلبا کے بیانات اور ردعملطلبا نے ان واقعات پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ سخت حاضری پالیسیاں، پروفیسرز کا رویہ اور ذہنی صحت کی عدم توجہی ان مسائل کی جڑ ہے، اویس کے دوستوں نے بتایا کہ وہ حاضری کی وجہ سے بہت پریشان تھا، اور یونیورسٹی نے اس کی کوئی مدد نہیں کی۔
فاطمہ کے کیس کے بعد طلبا نے ایک مرتبہ پھر احتجاج کرتے ہوئے آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے، لاہور یونیورسٹی کے طلبا نے کہا کہ یونیورسٹی میں کاؤنسلنگ کی سہولیات ناکافی جبکہ دباؤ بہت زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ کی خود کشی، پولیس کیا کہتی ہے؟
کئی طلبا نے خدشہ کا اظہار کیا کہ اگر پالیسیاں نہ بدلی گئیں تو ایسے واقعات جاری رہیں گے، انسانی حقوق گروپس نے بھی یونیورسٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ طلبا کی شکایات سننے کے لیے محفوظ پلیٹ فارم بنائے جائیں۔
دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیںپولیس نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، فاطمہ کے کیس میں، ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ یہ خودکشی کی کوشش لگتی ہے، سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جا رہی ہے، اور ایک خصوصی پینل تشکیل دیا گیا ہے۔
’اویس سلطان کے کیس میں بھی تحقیقات جاری ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ سے بھی ہر پہلو پر تفتیش ہو رہی ہے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے ضمن میں اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ، تاہم تحقیقات مکمل ہونے پر تفصیلات سامنے آئیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انکوئری کمیٹی اویس سلطان پینل جسٹس (ریٹائرڈ) محمد بلال خان حاضری ڈی آئی جی آپریشنز ڈین فیکلٹی سی ٹی وی فوٹیج فاطمہ فیصل کامران گرفتار یونیورسٹی آف لاہور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انکوئری کمیٹی اویس سلطان پینل جسٹس ریٹائرڈ محمد بلال خان ڈی آئی جی آپریشنز ڈین فیکلٹی سی ٹی وی فوٹیج فاطمہ فیصل کامران گرفتار یونیورسٹی آف لاہور یونیورسٹی آف لاہور لاہور یونیورسٹی خودکشی کی کوشش یونیورسٹی میں اویس سلطان نے کا کہنا ہے کہ طالبہ فاطمہ کشی کی کوشش ڈی فارمیسی کی خودکشی کی وجہ سے فاطمہ نے فاطمہ کے طالبہ کی لاہور کی طلبا کے دیا گیا طلبا کی رہی ہے کر دیا گیا ہے کے لیے کی خود کیا ہے کے بعد کے کیس
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔