یونیورسٹی میں 21 سالہ طالبہ کا اقدامِ خودکشی؛ تفتیش میں بڑے انکشافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
لاہور:
نجی یونیورسٹی میں 21 سالہ طالبہ کے اقدام خودکشی کے بعد تفتیش میں بڑے انکشافات سامنے آ گئے۔
گزشتہ روز نجی یونیورسٹی میں ڈی فارم کی طالبہ 21 سالہ فاطمہ نے بلڈنگ کی دوسری منزل سے کود کر خودکشی کی کوشش کی تھی، جسے تشویشناک حالت میں پہلے یونیورسٹی کے اسپتال اور بعد ازاں جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہے۔
اس سے چند روز قبل بھی اسی یونیورسٹی میں ڈی فارم کے ایک طالب علم نے بلڈنگ کی چوتھی منزل سے کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کے لواحقین کی جانب سے تاحال کسی قسم کی قانونی کارروائی کے لیے درخواست جمع نہیں کروائی گئی۔ طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی اور پھیپھڑوں پر گہرے زخم آئے ہیں، جس کی وجہ سے طالبہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔
پولیس کے مطابق واقعے سے متعلق اہل خانہ سے بھی مختلف پہلوؤں پر معلومات حاصل کی گئی ہیں جب کہ مکمل تفصیل جاننے کے لیے یونیورسٹی اور اطراف میں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج تحویل میں لے لی گئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کے بیان کے بعد ہی تفتیش کو اگلے مرحلے میں داخل کیا جائے گا، تاہم ابتدائی تحقیقات میں یہ معاملہ گھریلو نوعیت کا معلوم ہوتا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق تمام شواہد اور بیانات کی روشنی میں حتمی نتیجہ اخذ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیںنجی یونیورسٹی میں طالبعلم کے بعد طالبہ کی خودکشی کی کوشش، تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟
لاہور کی نجی یونیورسٹی میں نوجوان طالب علم کے بعد 21 سالہ طالبہ کی بھی خودکشی
تفتیش میں اہم انکشافات
نجی یونیورسٹی میں 21 سالہ طالبہ فاطمہ کے اقدام خودکشی کی ابتدائی تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق طالبہ 7 بج کر 58 منٹ پر یونیورسٹی آئی ، تاہم وہ یونیورسٹی آنے کے بعد کلاس میں نہیں گئی ۔
فاطمہ دوسری منزل سے کودنے سے قبل 27 منٹ تک فون پر بات کرتی رہی اور 8 بج کر 30 منٹ پر اس نے دوسری منزل سے چھلانگ لگادی۔ پولیس تفتیش کے مطابق طالبہ نے کودنے سے قبل آخری کال موبائل سے ڈیلیٹ کردی ۔
پولیس تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ بھائیوں نے لڑکی کا پرانا موبائل خراب ہونے پر واقعے سے ایک روز قبل ہی اسے نیا موبائل لے کر دیا تھا۔ لڑکی کےدونوں بھائیوں کے تفصیلی بیان بھی ریکارڈ کیے جارہے ہیں ۔
پولیس کے مطابق یونیورسٹی میں ہونے والے ٹیسٹ میں طالبہ نے 35 میں سے 18 نمبر لیے تھے اور حاصل کردہ نمبروں سے غیر مطمئن ہونے کے حوالے سے اس نے اپنے والد اور بھائیوں کو بتایا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے ۔ اقدام خودکشی کی حتمی وجہ کا تعین جلد کرلیا جائے گا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نجی یونیورسٹی میں سالہ طالبہ تفتیش میں خودکشی کی کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔