کراچی میں آوارہ کتوں کے حملے بڑھ گئے، 5 دن میں 300 کیسز رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سال نو کے ابتدائی پانچ دنوں کے دوران کراچی میں آوارہ کتوں کے حملوں نے شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جہاں انڈس اسپتال کورنگی میں 300 سے زائد سگ گزیدگی کے کیسز رپورٹ ہوئے۔
اس حوالے سے انڈس اسپتال کے مینجر ریبیز پریونشن کلینک آفتاب گوہر نے بتایا کہ کورنگی، لانڈھی، بلدیہ، حب چوکی اور گڈاپ ٹاؤن سمیت شہر کے متعدد علاقوں میں آوارہ کتوں کی جانب سے شہریوں پر حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
آفتاب گوہر نے مزید بتایا کہ سگ گزیدگی کے متاثرین میں سب سے زیادہ تعداد دو سال سے کم عمر بچوں کی ہے، جنہیں آوارہ کتوں نے چہرے پر شدید زخم پہنچائے۔ ایک سنگین واقعے میں 41 سالہ شہری کی انگلی کٹ گئی، تاہم تمام متاثرین کو فوری طور پر ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین (PEP) فراہم کر دی گئی۔
انڈس اسپتال کے ماہرین نے والدین اور شہریوں پر زور دیا ہے کہ ایسے خطرناک حالات میں فوری اقدامات کریں کیونکہ ریبیز ایک مہلک بیماری ہے جو بغیر بروقت علاج کے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سگ گزیدگی کی صورت میں متاثرہ حصے کو فوراً نلکے کے پانی کے نیچے 10 سے 15 منٹ تک دھوئیں اور کسی صابن سے اچھی طرح صاف کریں، پھر ریبیز ویکسین لگوائیں۔
شہری علاقوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے حملے ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بنتے جا رہے ہیں، جس کے تدارک کے لیے مقامی انتظامیہ اور ہیلتھ حکام کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ بچوں کو تنہا باہر نہ جانے دیں اور کسی بھی خطرناک صورتحال میں فوری طور پر اسپتال پہنچیں تاکہ جان لیوا بیماری سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔
یہ صورتحال شہر میں آوارہ کتوں کے مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے اور ماہرین کی رائے میں فوری پالیسی اقدامات، ویکسین کی فراہمی اور عوامی آگاہی بڑھانے کے اقدامات انتہائی ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں مزید انسانی جانوں کو خطرے سے بچایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں آوارہ کتوں
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔