data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا کی صنعتی دنیا تیزی سے روبوٹکس اور خودکار نظاموں کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی انسان کے کام کو آسان، محفوظ اور زیادہ مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

فزیکل اے آئی اور آٹومیشن کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیشِ نظر کام کرنے کے روایتی طریقے بدل رہے ہیں اور مزدوروں کو نئی مہارتیں سیکھنے کی ضرورت پیدا ہو رہی ہے۔

اسی سلسلے میں ہونڈائی موٹر گروپ نے ایسے جدید روبوٹس متعارف کرائے ہیں جو انسانی ہاتھوں کی طرح کام کر سکتے ہیں اور خطرناک یا دہرائے جانے والے کاموں کو خود بخود انجام دے سکتے ہیں۔

یہ روبوٹس، جنہیں ’’ایٹلس‘‘ کہا جاتا ہے، ہونڈائی کی ذیلی کمپنی بوسٹن ڈائنامکس نے تیار کیے ہیں اور انہیں لاس ویگاس میں ہونے والے کنزیومر الیکٹرانکس شو میں پیش کیا گیا۔ شو میں ایٹلس روبوٹس نے حیران کن صلاحیتیں دکھائیں، جن میں راک اسٹار ڈانس کرنے کی قابلیت اور 50 کلوگرام تک وزن اٹھانا شامل تھا، جس نے حاضرین کو دنگ کر دیا۔

کمپنی کے مطابق یہ روبوٹس صنعتی ماحول میں خودمختار طور پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انتہائی سخت حالات میں بھی مؤثر رہ سکتے ہیں، جہاں درجہ حرارت مائنس 20 ڈگری سے لے کر 40 ڈگری سیلسیس تک ہو۔ ابتدا میں یہ روبوٹس پارٹس کی ترتیب کے کام انجام دیں گے، لیکن مستقبل میں بھاری وزن اٹھانے، دہرائے جانے والے آپریشنز اور پیچیدہ صنعتی کاموں میں بھی مدد فراہم کریں گے۔

ہونڈائی نے اعلان کیا ہے کہ سال 2028 سے امریکا کی ریاست جورجیا میں اپنی فیکٹری میں ایٹلس روبوٹس کی تعیناتی شروع ہوگی، اور کمپنی کی منصوبہ بندی کے مطابق اگلے چند برسوں میں ایک فیکٹری میں سالانہ تقریباً 30 ہزار روبوٹس تیار کیے جائیں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگرچہ روبوٹس آٹومیشن بڑھائیں گے، انسانی موجودگی اب بھی ضروری رہے گی تاکہ مزدور انہیں چلائیں، تربیت دیں اور ان کی دیکھ بھال کریں۔

ہونڈائی کا مؤقف ہے کہ ایٹلس روبوٹس صنعت میں کام کرنے والے مزدوروں کے جسمانی دباؤ کو کم کریں گے اور مستقبل میں ’’فزیکل اے آئی‘‘، یعنی حقیقی دنیا میں خودمختار فیصلے کرنے والے روبوٹک نظاموں کی سب سے بڑی مارکیٹ کے لیے راہیں ہموار کریں گے۔ کمپنی عالمی سطح پر اے آئی کے ماہر اداروں، جیسے این ویڈیا اور گوگل کے ساتھ شراکت داری کر کے روبوٹس کی حفاظت اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں سرگرم ہے۔

ماہرین کے مطابق ہونڈائی کی یہ پیش رفت نہ صرف فیکٹریوں میں کام کو محفوظ بنانے کا ذریعہ ہے بلکہ یہ صنعتی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف ایک اہم قدم بھی ہے۔ ٹیکنالوجی کی اس ترقی سے انسان اور مشین کے درمیان تعاون بڑھ رہا ہے، جس سے صنعتیں زیادہ مؤثر، محفوظ اور مستقبل کے لیے تیار ہو رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف صنعتی آٹومیشن کے نئے امکانات پیدا ہوں گے بلکہ فزیکل اے آئی کے شعبے میں عالمی سطح پر جدت کی راہیں بھی کھلیں گی۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کام کرنے ہیں اور اے آئی کام کر

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس