علاقائی صورتحال پر سعودی ولیعہد اور ابو محمد الجولانی کے درمیان مشاورت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
گزشتہ ماہ دمشق و ریاض نے گیس اور تیل کے 4 معاہدوں پر دستخط کئے۔ جن میں شام میں آئل اور گیس کی فیلڈ میں ٹیکنیکل سروسز شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی ولی عہد "محمد بن سلمان" اور شام پر قابض باغیوں كی حكومت كے صدر "ابو محمد الجولانی" کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں سربراہان مملکت نے علاقائی صورت حال کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تعاون کے مواقع بھی زیر بحث آئے۔ اس دوران مشتركہ دلچسپی كے موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔ واضح رہے كہ شام سے "بشار الاسد" کی حکومت کے خاتمے کے بعد، سعودی عرب نے دمشق سے تعلقات کا نیا باب کھولا ہے۔ اسی سلسلے میں گزشتہ ماہ دمشق و ریاض نے گیس اور تیل کے 4 معاہدوں پر دستخط کئے۔ جن میں شام میں آئل اور گیس کی فیلڈ میں ٹیکنیکل سروسز شامل ہیں۔ یاد رہے کہ دو ماہ قبل شامی پٹرولیم مصنوعات کے ڈائریکٹر "یوسف قبالاوی" نے مغربی ساحل پر مزید پانچ گیس کے ذخائر دریافت ہونے کی خبر دی۔ قابل غور بات ہے کہ شامی باغیوں نے بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے 27 نومبر 2023ء کو حلب کے شمال مغربی اور جنوب مغربی علاقوں سے اپنی شورش کا آغاز کیا، جو بالآخر 11 دن بعد، اتوار 7 دسمبر 2023ء کو دمشق کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔