کےپی میں سیاسی سہولتکاری دہشتگردی کو ہوا دے رہی ہے، آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کےڈائریکٹرجنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نےکہاہےکہ دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوامیں ہوئے،اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشتگردوں کو سازگارسیاسی ماحول فراہم کیاجاتا ہےاور وہاں سیاسی اوردہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پارہا ہے،کہتےہیں خیبرپختونخوامیں آپریشن نہیں کرنےدیں گے،فتنہ الخوارج کبھی ان پرحملہ کیوں نہیں کیا؟یہ ان کے منظورنظر بننا چاہتے ہیں،فوجی آپریشن نہیں کرناتوکیادہشتگردوں کی بیعت کرلیں؟۔
ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نے نیوز کانفرنس کرتےہوئےکہادہشتگردی کی جنگ پوری قوم کی جنگ ہے،2025میں ریاست اور عوام کو دہشتگردی پر مکمل وضاحت حاصل ہوئی، فتنہ الخوارج اورفتنہ الہندوستان کاپاکستان،بلوچستان سےکوئی تعلق نہیں،افغانستان پورے خطے میں دہشتگردی کابیس آف آپریشن ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نےنیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا دہشتگردی کیخلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے،دہشتگرد خوارج ہیں ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں،ریاست کا دہشتگردی کیخلاف واضح موقف ہے۔
انہوں نے کہا گزشتہ سال دہشتگردی کےخلاف کامیاب آپریشنزکیےگئے،ملک بھر میں 5 ہزار 397 دہشتگردی کے واقعات ہوئے،گزشتہ سال دہشتگردوں کیخلاف 75ہزار175 آپریشنزکیےگئے،خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 658 آپریشنز کیے گئے، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشنز کیے گئے، گزشتہ سال 27 خودکش بم دھماکے ہوئے،خیبرپختو نخوا میں 16 خود کش دھماکے ہوئے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 1235 افراد نے جام شہادت نوش کیا ،2597دہشتگردوں کو جنہم واصل کیا گیا۔
خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشتگردی کی وجہ دہشتگردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے،احمد شریف چوہدری
ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہا دوحہ معاہدے میں طےہوا تھا افغان سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دی جائیگی،دہشتگردی کے باعث سیاحت کا شعبہ انحطاط کا شکار ہے،دہشتگردی کےخاتمےکیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے،افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن چکا ہے، امریکا اور اتحادی افواج کےانخلا میں افغان طالبان کا کوئی کردار نہیں،بھارت سے دہشتگردوں کو پیسہ اورسرپرستی حاصل ہوتی ہے، افغانستان میں موثر اور نمائندہ حکومت موجود نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نےکہاافغان طالبان کا بیانیہ حقائق پرمبنی نہیں ہے،افغانستان میں چھوڑا گیا وہ اسلحہ اب دہشتگردی کیلئے استعمال ہورہا ہے،معرکہ حق اور افغانستان میں کارروائی کے بعددہشتگردی میں اضافہ ہوا،چندگھنٹوں میں افغانستان میں دہشتگردوں کےٹھکانوں کوتباہ کیا،سرحد پار دہشتگردی پر پاکستان کی طرف سے افغانستان کو سخت جواب دینا پڑا،افغانستان دہشتگردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے،خوارج کےبارےمیں اللہ کا حکم ہےجہاں ملیں مار دو،پاکستان میں دہشتگردی کے دس بڑے واقعات میں افغان ملوث تھے،۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہا قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دی گی،ہم حق پر ہیں اور کھڑے رہیں گے،کالعدم بی ایل اےکا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں،دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں بیٹھ کرکی جاتی ہے، افغانستان کیخلاف کارروائی کے دوران افغانستان کا قبضہ گروپ وزیر خارجہ بھارت میں تھا،یہ لوگ زر کے غلام ہیں دین کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے،یہ فتنہ الخوارج کے سرپرست ہیں،بھارتی میڈیا پر چلایا گیا 2026 میں بھارت اور افغانستان ملکرپاکستان پر حملہ کریں گے،آجاؤ تمہارا شوق پورا کریں گے،ریاست دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے،دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کیخلاف اقدامات کو سراہا،دہشتگردی کیخلاف جنگ بزور طاقت جیتیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر دہشتگردی کیخلاف افغانستان میں دہشتگردوں کو دہشتگردی کے دہشتگردی کی چوہدری نے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔