اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کےڈائریکٹرجنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نےکہاہےکہ دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوامیں ہوئے،اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشتگردوں کو سازگارسیاسی ماحول فراہم کیاجاتا ہےاور وہاں سیاسی اوردہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پارہا ہے،کہتےہیں خیبرپختونخوامیں آپریشن نہیں کرنےدیں گے،فتنہ الخوارج کبھی ان پرحملہ کیوں نہیں کیا؟یہ ان کے منظورنظر بننا چاہتے ہیں،فوجی آپریشن نہیں کرناتوکیادہشتگردوں کی بیعت کرلیں؟۔

ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نے نیوز کانفرنس کرتےہوئےکہادہشتگردی کی جنگ پوری قوم کی جنگ ہے،2025میں ریاست اور عوام کو دہشتگردی پر مکمل وضاحت حاصل ہوئی، فتنہ الخوارج اورفتنہ الہندوستان کاپاکستان،بلوچستان سےکوئی تعلق نہیں،افغانستان پورے خطے میں دہشتگردی کابیس آف آپریشن ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نےنیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا دہشتگردی کیخلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے،دہشتگرد خوارج ہیں ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں،ریاست کا دہشتگردی کیخلاف واضح موقف ہے۔

انہوں نے کہا گزشتہ سال دہشتگردی کےخلاف کامیاب آپریشنزکیےگئے،ملک بھر میں 5 ہزار 397 دہشتگردی کے واقعات ہوئے،گزشتہ سال دہشتگردوں کیخلاف 75ہزار175 آپریشنزکیےگئے،خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 658 آپریشنز کیے گئے، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشنز کیے گئے، گزشتہ سال 27 خودکش بم دھماکے ہوئے،خیبرپختو نخوا میں 16 خود کش دھماکے ہوئے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 1235 افراد نے جام شہادت نوش کیا ،2597دہشتگردوں کو جنہم واصل کیا گیا۔

خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشتگردی کی وجہ دہشتگردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے،احمد شریف چوہدری

ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہا دوحہ معاہدے میں طےہوا تھا افغان سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دی جائیگی،دہشتگردی کے باعث سیاحت کا شعبہ انحطاط کا شکار ہے،دہشتگردی کےخاتمےکیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے،افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن چکا ہے، امریکا اور اتحادی افواج کےانخلا میں افغان طالبان کا کوئی کردار نہیں،بھارت سے دہشتگردوں کو پیسہ اورسرپرستی حاصل ہوتی ہے، افغانستان میں موثر اور نمائندہ حکومت موجود نہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نےکہاافغان طالبان کا بیانیہ حقائق پرمبنی نہیں ہے،افغانستان میں چھوڑا گیا وہ اسلحہ اب دہشتگردی کیلئے استعمال ہورہا ہے،معرکہ حق اور افغانستان میں کارروائی کے بعددہشتگردی میں اضافہ ہوا،چندگھنٹوں میں افغانستان میں دہشتگردوں کےٹھکانوں کوتباہ کیا،سرحد پار دہشتگردی پر پاکستان کی طرف سے افغانستان کو سخت جواب دینا پڑا،افغانستان دہشتگردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے،خوارج کےبارےمیں اللہ کا حکم ہےجہاں ملیں مار دو،پاکستان میں دہشتگردی کے دس بڑے واقعات میں افغان ملوث تھے،۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہا قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دی گی،ہم حق پر ہیں اور کھڑے رہیں گے،کالعدم بی ایل اےکا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں،دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں بیٹھ کرکی جاتی ہے، افغانستان کیخلاف کارروائی کے دوران افغانستان کا قبضہ گروپ وزیر خارجہ بھارت میں تھا،یہ لوگ زر کے غلام ہیں دین کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے،یہ فتنہ الخوارج کے سرپرست ہیں،بھارتی میڈیا پر چلایا گیا 2026 میں بھارت اور افغانستان ملکرپاکستان پر حملہ کریں گے،آجاؤ تمہارا شوق پورا کریں گے،ریاست دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے،دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کیخلاف اقدامات کو سراہا،دہشتگردی کیخلاف جنگ بزور طاقت جیتیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر دہشتگردی کیخلاف افغانستان میں دہشتگردوں کو دہشتگردی کے دہشتگردی کی چوہدری نے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی