کروڑوں کا بجٹ، 6 بڑی فلمیں جو 2026 میں ریلیز ہوں گی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
2026 بالی ووڈ کے شائقین کےلیے ایک بڑا سال ثابت ہونے جارہا ہے۔ جہاں 2025 میں فلم ’دھورندھر‘ نے باکس آفس پر دھوم مچائی، وہیں رواں برس کئی بھاری بجٹ کی فلمیں ریلیز ہونے والی ہیں جو فلمی دنیا میں تہلکہ مچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، اس سال چھ فلمیں ایسی ریلیز ہوں گی جن پر مجموعی طور پر تقریباً دو ہزار 80 کروڑ بھارتی روپے کا بجٹ خرچ کیا گیا ہے۔
فہرست میں پہلے نمبر پر ’رامائن‘ ہے، جس میں رنبیر کپور ہندو مذہب کے بھگوان رام کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس فلم کی ہدایت کاری نتیش تیواری کر رہے ہیں، جو اس سے قبل سپرہٹ فلم ’دنگل‘ کی کامیابی کے لیے مشہور ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ صرف پہلے حصے پر ہی 900 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں جبکہ پوری سیریز کا بجٹ تقریباً چار ہزار کروڑ روپے ہے۔ فلم ’رامائن‘ دیوالی کے موقع پر سینما گھروں کی زینت بنے گی۔
View this post on Instagramدوسرے نمبر پر ہے بالی ووڈ کے کنگ شاہ رخ خان کی فلم ’کنگ‘، جس کا بجٹ تقریباً 300 کروڑ روپے ہے۔ اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ شاہ رخ خان پہلی بار اپنی بیٹی سہانا خان کے ساتھ اسکرین شیئر کریں گے۔ ہدایت کاری کا کام سدھارتھ آنند انجام دے رہے ہیں۔
View this post on Instagramفہرست میں تیسرے نمبر پر ہے ’دھورندھر ٹو‘، جس میں رنویر سنگھ مرکزی کردار میں نظر آئیں گے۔ یہ فلم رواں برس 19 مارچ کو ریلیز ہوگی اور اس پر تقریباً 250 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
View this post on Instagramچوتھے نمبر پر شامل ہے ’بارڈر ٹو‘، جس میں سنی دیول، ورون دھون اور دلجیت دوسانجھ مختلف اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ فلم رواں ماہ 23 تاریخ کو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی اور اس پر تقریباً 230 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
View this post on Instagramپانچویں نمبر پر دو فلمیں شامل ہیں۔ ایک طرف سلمان خان کی فلم ’بیٹل آف گلوان‘ اور دوسری طرف رنبیر کپور، وکی کوشل اور عالیہ بھٹ کی فلم ’لو اینڈ وار‘۔ رپورٹ کے مطابق دونوں فلموں کا بجٹ 200 کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے۔
View this post on Instagram2026 میں یہ فلمیں نہ صرف بڑے بجٹ بلکہ اسٹار کاسٹ اور مہنگے پروڈکشن کی وجہ سے بھی بالی ووڈ میں سنسنی پیدا کریں گی اور شائقین کے لیے سینما گھروں میں دلچسپی کی نئی لہر لے کر آئیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کروڑ روپے رہے ہیں کی فلم کا بجٹ
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔