بنگلہ دیش بھارت سرحد پر ہلاکتوں کے خلاف ڈھاکا میں احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کی معروف انسانی حقوق کی تنظیم اودھیکار نے بنگلہ دیش بھارت سرحد پر مبینہ ہلاکتوں، تشدد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ اور بنگلہ دیش ایئر فورس کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
تنظیم کا کہنا ہے کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی جانب سے بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
اودھیکار کے مطابق احتجاج میں مقتولین کے لواحقین، انسانی حقوق کے کارکنان اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوں گے۔
مظاہرے میں فلانی کیس کو بھی یاد کیا جائے گا جو ایک بنگلہ دیشی نوعمر لڑکی تھی اور سرحد پر ہلاک ہوئی تھی۔ اس واقعے نے خطے اور عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا تھا۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ احتجاج 7 جنوری کو صبح 10 بجے ڈھاکا کے نیشنل پریس کلب کے سامنے منعقد کیا جائے گا۔
مزید پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت میں محفوظ نہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا
اودھیکار کے ڈائریکٹر اے ایس ایم ناصرالدین ایلان نے میڈیا اداروں کو احتجاج کی کوریج کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے بنگلہ دیش کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے جس پر فوری توجہ اور جوابدہی کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات: امن و امان کے لیے سیکیورٹی اداروں کو غیر معمولی اختیارات تفویض
بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے مطالبہ کرتی آ رہی ہیں کہ سرحدی علاقوں میں بی ایس ایف کی مبینہ زیادتیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور سفارتی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں، کیونکہ ان سرحدی کشیدگیوں کا سب سے زیادہ نقصان عام اور بے گناہ شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش بھارت بارڈر بنگلہ دیشی تنظیم اودھیکار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش بھارت بارڈر بنگلہ دیش کے خلاف
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔