ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت میں ریاستی سیکیورٹی کی پیشکش بھی بنگلہ دیش کو قائل نہ کر سکی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
.
.
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ یعنی بی سی بی اپنے اس مؤقف پر قائم ہے کہ قومی ٹیم آئندہ آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے بھارت کا سفر نہیں کرے گی، چاہے ریاستی سطح پر سیکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش ہی کیوں نہ کی جائے۔
بی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے باعث کھلاڑیوں، آفیشلز، صحافیوں اور شائقین کو بھارت بھیجنے سے منع کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تنازع بڑھ گیا، ڈھاکہ میں آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی عائد
اسی بنا پر کرکٹ بورڈ نے باضابطہ طور پر آئی سی سی سے درخواست کی ہے کہ بنگلہ دیش کے میچز کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کیے جائیں، جیسا کہ ماضی میں سیاسی یا سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پردوطرفہ دوروں کے دوران کیا جاتا رہا ہے۔
آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان آن لائن مذاکرات متوقع ہیں، تاہم ڈھاکہ کا مؤقف تاحال تبدیل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
BCB's firm stance has placed BCCI under significant organizational pressure.
— chill ???? (@Ghumacchi) January 6, 2026
تجویز میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے میچز کسی دوسرے میزبان ملک میں منتقل کیے جائیں، کیونکہ اس ورلڈ کپ میں پاکستان کے میچز پہلے ہی سری لنکا میں شیڈول ہیں۔
یہ بحث اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب رپورٹس سامنے آئیں کہ بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے دھمکیوں کے باعث سیکیورٹی خدشات پر آئی پی ایل سے دستبردار کرالیا گیا۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان، شاہد آفریدی بول پڑے
بی سی بی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر ایک کھلاڑی کی حفاظت یقینی نہیں بنائی جا سکتی تو کھلاڑیوں، شائقین اور میڈیا پر مشتمل پورے وفد کے لیے خطرات کہیں زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔
آئی سی سی کے ذریعے بھارتی حکام نے ریاستی سطح پر سیکیورٹی فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم بی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی ہدایات کے خلاف نہیں جا سکتے۔
اگر آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی درخواست مسترد کردی اور بی سی بی نے ٹیم بھیجنے سے انکار کر دیا تو مخالف ٹیموں کو واک اوور مل سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:بھارتی اجارہ داری ختم، ایشین کرکٹ کونسل کے مستقبل سے متعلق سابق پی سی بی چیف کا اہم دعویٰ
اگرچہ سخت پابندیوں کا امکان بھی موجود ہے، مگر بنگلہ دیشی حکام کو یقین ہے کہ عالمی کرکٹ ادارہ ان سیکیورٹی خدشات کی سنگینی کو تسلیم کرے گا۔
ادھر ٹورنامنٹ سے چند ہفتے قبل متعدد میچز کی منتقلی ایک بڑا انتظامی چیلنج ہو گی، جس کے لیے شیڈولنگ، براڈکاسٹنگ اور دیگر کرکٹ بورڈز کے ساتھ معاہدوں میں تبدیلی درکار ہو گی۔
فی الحال بی سی بی کا کہنا ہے کہ وہ کسی تصادم کے خواہاں نہیں، بلکہ صرف یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ کھلاڑی اور شائقین محفوظ ماحول میں مقابلہ کرسکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
براڈکاسٹنگ بنگلہ دیش ٹی20 سیکیورٹی ورلڈ کپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: براڈکاسٹنگ بنگلہ دیش ٹی20 سیکیورٹی ورلڈ کپ بنگلہ دیش کے کہ بنگلہ دیش ورلڈ کپ کے لیے
پڑھیں:
بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔
صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
استعفے کی وجہ کیا ہے؟صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
آئینی طریقہ کارصدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔
آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔
شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگیشیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔
گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔
موجودہ حکومت پر دباؤشیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین