بھارتی وفد نے خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی، ایاز صادق
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھارتی وفد کی جانب سے انہیں خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کرنے سے زبردستی روکنے کا انکشاف کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں انہوں نے حالیہ دورہ بنگلہ دیش اور بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات سے متعلق احوال سے آگاہ کیا، انہوں نے وزیراعظم کو حالیہ دورہ بنگلہ دیش پر تفصیلی بریفنگ دی، ا سپیکر قومی اسمبلی نے دورہ بنگلہ دیش سفارتی لحاظ سے انتہائی کارآمد اور مفید قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کو بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے ہونے والی مختصر ملاقات پر بھی اعتماد میں لیا۔ایاز صادق نے بتایا کہ جے شنکر نے خود میری نشست پر آ کر ملاقات کی اور اپنا تعارف بھارتی وزیر خارجہ کے طور پر کرایا، جس پر میں نے بھی ان سے احوال دریافت کیا، بھارتی وزیر خارجہ سے یہ مختصر ملاقات 6 یا 7 سیکنڈ کی تھی، جے شنکر کی جانب سے میری نشست پر آ کر مصافحہ کرنا میرے لیے حیران کن رہا، وہ پوری تیاری اور منصوبہ بندی سے مجھ سے ملاقات کے لیے آئے تھے، بھارتی وزیر خارجہ سے غیر رسمی ملاقات کے دوران انتہائی محتاط رویہ اختیار کیا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارتی وفد نے مجھے سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کرنے سے زبردستی روکنے کی کوشش کی، پاکستان، مالدیپ، نیپال اور بھوٹان کے وفود کو ایک بس میں جنازہ گاہ لایا گیا، جب بس میں سوار ہوا تو بھارتی وزیر خارجہ اور ہائی کمشنر اگلی نشست پر بیٹھے تھے، بھارتی وفد نے بس کے شیشوں پر لگے پردے آگے کر رکھے تھے تاکہ لوگوں سے بچ سکیں جب کہ میں اپنے ہائی کمشنر کے ساتھ پچھلی نشست پر بیٹھ گیا اور پردے سائیڈ پر کرکے بنگلہ دیشی عوام کے نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیتا رہا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے بتایا کہ بھارتی وفد پوری تیاری اور منصوبہ بندی کے تحت وہاں آیا تھا،جیسے ہی بس جنازہ گاہ پہنچی تو بھارتی ہائی کمشنر بس کے دروازے پر کھڑے ہوگئے، جب میں نیچے اترنے لگا تو بولے کہ آپ مت جائیں نیچے رش ہے اور آپ کو خطرہ ہے، جس پر میں نے بھارتی ہائی کمشنر سے کہا دروازہ کھولیں میں تو یہاں آیا ہی جنازے میں شرکت کے لیے ہوں، جب انہوں نے دروازہ نہیں کھولا تو میں نے غصہ میں زور سے کہا دروازہ کھولو اور دروازہ کھلنے کے بعد نیپال اور مالدیپ کے وفود کو ساتھ لے کر نیچے اترگیا لیکن بھارتی وزیر خارجہ اور ہائی کمشنر بس میں ہی بیٹھے رہے کیونکہ انہیں جنازہ پڑھنا نہیں تھا، ان کی پوری کوشش تھی میں بھی جنازہ نہ پڑھ سکوں اور یہ ایشو بناسکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیر خارجہ جنازے میں شرکت قومی اسمبلی بھارتی وفد ہائی کمشنر ایاز صادق انہوں نے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم