سوڈان اور پاکستان میں طویل مدتی اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات ہیں ،صالح محمد احمد WhatsAppFacebookTwitter 0 6 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس ) پاکستان میں سوڈان کے سفیر، محمد صالح محمد احمد محمد صدیق نے سوڈان اور پاکستان کے درمیان طویل مدتی، بھائی چارے اور تاریخی تعلقات کی تعریف کی ہے، اور ان کے مستحکم ترقی اور سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں پیشرفت کو نوٹ کیا ہے۔ سفیر نے یہ بیان سودان کے قومی دن کے موقع پر منعقد ہونے والی تقریب میں کیا، جس میں سودان کی آزادی کی 70 ویں سالگرہ منائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ سودان اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات سودان کی آزادی کے فورا بعد قائم ہوئے تھے اور دہائیوں سے مشترکہ احترام، تعاون اور مشترکہ اقدار کے ذریعے مضبوط ہوتے رہے ہیں۔

اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے، محمد صدیق نے دو طرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے فائدے کے لئے ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ میں آپ سب کو سودان کے قومی دن کے موقع پر پاکستان میں سودان کے سفارت خانے میں خوش آمدید کہتا ہوں، جیسے کہ ہم سودان کی آزادی کی 70 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ یہ تاریخی واقعہ ہمارے لوگوں کی آزادی، خودمختاری اور قومی وقار کے لئے جدوجہد کا ایک اہم میلہ ہے۔سفیر نے کہا کہ 1956 میں اس دن، سودان نے اپنی آزادی کا اعلان کیا، جس نے سودانی لوگوں کے خودمختاری کے حق کے لئے ایک طویل جدوجہد کا تاج پہنایا۔ اس گراں قدر موقع پر، ہم ان نجیب پیش روں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے آزاد سودانی ریاست کی بنیاد رکھی۔انہوں نے کہا کہ قومی دن کا جشن منانا صرف ماضی کو یاد کرنے تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ یہ ہمارے وطن کے ساتھ وفاداری اور یکجہتی کو تجدید کرنے کا موقع ہے

اور امن، تحفظ، ترقی، خوشحالی اور بہبود کے حصول کے لئے ہمارے وفادار بیٹوں کی یکجہتی اور مشترکہ عمل سے متاثر ہونے کا موقع ہے۔سفیر کا کہنا تھا کہ سودان نے چیلنجوں کا سامنا کیا ہے، خاص طور پر متمرد شہریوں اور ان کے خارجی حامیوں کی طرف سے مسلط کردہ جنگ کے سالوں میں، اور اس متمرد شہریوں کی طرف سے کی گئی ہلاکت، تجاوز، لوٹ مار، تباہی اور جبری نقل مکانی کے باوجود، سودانی لوگوں کی ارادہ ہمیشہ مضبوط رہا ہے، اور ان کی عزم زیادہ مضبوط رہا ہے۔ یہ ان کے اپنے بہادر قومی فوج کے گرد جمع ہونے میں ظاہر ہوا ہے، لیٹیننٹ جنرل عبدالفتاح عبدالرحمان البرہان کی قیادت میں، جو ترقیاتی سوورن کونسل کے چیئرمین اور افواج کے کمانڈر انچیف ہیں، تاکہ ایک واضح فتح حاصل کی جا سکے اور کردفان اور دارفور میں ہمارے خالص وطن کے باقی حصوں کی آزادی مکمل کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ انشا اللہ، یہ جلد ہی نئے سال میں حاصل ہو جائے گا، خاص طور پر حالیہ شاندار فتوحات کے بعد جو فوج، مشترکہ افواج اور معاون افواج نے کردفان کے کئی مقامات پر حاصل کی ہیں۔ آزادی کی سالگرہ ہمارے اندر امید کو تجدید کرتی ہے۔ گذشتہ سال کے دوران، “حکومت امید” کی تشکیل ڈاکٹر کامل ادریس کی قیادت میں مکمل ہوئی۔ سفیر نے کہا کہ حکومت نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور مختلف شعبوں میں طویل عرصے سے منتظر مثبت پیشرفت کا اعلان کیا ہے، جو کہ اس سال کے دوران حاصل ہونے کی امید ہے۔انہوں نے کہا کہ اس نے یونائیٹڈ نیشنز سیکیورٹی کونسل میں جامع قومی امن منصوبہ پیش کیا ہے، جہاں اس کا استقبال کیا گیا ہے، نیز عرب لیگ، افریقی یونین اور دیگر نے بھی اس کا استقبال کیا ہے۔ یہ ہمارے مستقبل کے لئے ہمارے یقین اور امیدوں کو مضبوط کرتا ہے: ایک محفوظ، متحد اور خوشحال وطن، جہاں اس کے تمام شہریوں کو امن، انصاف اور وقار حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ یہ واپس آئے جبکہ سودان کے تمام حصوں میں امن اور استحکام قائم ہو۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے افواج اور معاون افواج کو جلد اور فیصلہ کن فتح عطا کرے؛ ہمارے شہدا کو ابدی جنت نصیب ہو؛ ہمارے زخمیوں کو مکمل صحت یابی ملے؛ اور قیدیوں اور لنگڑوں کو سلامتی کے ساتھ واپس لایا جائے۔آخر میں سفیر نے کہا کہ سودان ہمیشہ بہتر رہے، اور دنیا کے تمام لوگ جو امن سے محبت کرتے ہیں ان کو تحفظ، استحکام اور خوشحالی حاصل ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسابق صدر فیصل آباد چیمبرآف کامرس ڈاکٹر خرم طارق کی ملائیشین ہائی کمشنر سے ملاقات سابق صدر فیصل آباد چیمبرآف کامرس ڈاکٹر خرم طارق کی ملائیشین ہائی کمشنر سے ملاقات این سی سی آئی اے کی بڑی کارروائی، خواتین کو ہراساں کرنے والا ملزم راولپنڈی سے گرفتار دہشت گردی کے خلاف لڑائی پوری قوم کی جنگ، خاتمہ کیلئے پرعزم ہیں: پاک فوج وفاقی حکومت نے نومبر 2025 میں 573 ارب قرض لیا، مجموعی قرض کتنا ہوگیا؟ مونس الہٰی کے اثاثے ضبط کرنے کیخلاف درخواست پر نیب سے جواب طلب وزیراعظم کی زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اور پاکستان پاکستان میں

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم