نیویارک: پاکستان نے وینزویلا میں ہونے والی پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔یہ بیان پیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں دیا گیا جو وینزویلا کی تازہ صورتحال پر غور کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ یہ سلامتی کونسل کا رواں سال کا پہلا اجلاس بھی تھا، جس کی صدارت اس وقت صومالیہ کے پاس ہے۔امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا میں اچانک فوجی کارروائی کی، جس کے دوران خصوصی دستوں نے رات کو چھاپے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کر لیا۔پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں سے دوچار ہے، خطے میں عدم استحکام علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے نیک شگون نہیں۔انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان کو یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر ریاستوں کو کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے باز رہنے، خودمختار مساوات، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور تنازعات کے پرامن حل کا پابند بناتا ہے۔سفیر عثمان جدون نے کہا کہ یکطرفہ فوجی کارروائی ان مقدس اصولوں اور ریاستی استثنا کے نظریے کے بھی منافی ہے اور ایسی کارروائیاں خطرناک مثالیں قائم کرتی ہیں جو عالمی قانونی ڈھانچے کی بنیادوں کو کمزور کر سکتی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات انتشار اور افراتفری کو ہوا دیتے ہیں۔کشیدگی میں کمی پر زور دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ اس نازک مرحلے پر آگے بڑھنے کا راستہ مکالمہ اور سفارت کاری ہونا چاہیے، اور سیاسی اختلافات کا پائیدار حل صرف پرامن ذرائع سے وینزویلا کے عوام کی مرضی کے مکمل احترام کے ساتھ بیرونی مداخلت کے بغیر ہی ممکن ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ لاطینی امریکا اور کیریبین جنہیں امن کا خطہ تسلیم کیا جاتا ہے، تنازع اور محاذ آرائی سے پاک رہیں گے اور علاقائی تعاون اور خوشحالی کی جانب بڑھتے رہیں گے۔پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی کم کریں، ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہوں اور خلوص نیت سے پیش کی جانے والی ثالثی سمیت مکالمے کے ذریعے حل کی جانب بڑھیں۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے، کشیدگی کم کرنے، تنازعات کے پرامن حل کو فروغ دینے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے سلامتی کونسل میں پاکستان کے تعمیری کردار کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ وینزویلا میں امن و استحکام اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود، مکمل قومی ملکیت کے ساتھ، تمام کوششوں کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سلامتی کونسل عالمی امن سلامتی کو انہوں نے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ