وزیراعظم کا بنگلہ دیش ہائی کمیشن کا دورہ، خالدہ ضیاء کے انتقال پر تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر تعزیت کے لیے عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کا دورہ کیا۔
وزیراعظم نے بنگلہ دیش کے ناظم الامور سے اظہارِ تعزیت کیا، تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلم بند کیے اور مرحومہ کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔
اپنے تعزیتی پیغام میں وزیراعظم نے بیگم خالدہ ضیاء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک صاحبِ بصیرت رہنما اور نامور سیاسی شخصیت قرار دیا جنہوں نے اپنی زندگی عوامی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بیگم خالدہ ضیاء پاکستان اور پاکستانی عوام کی مخلص دوست اور خیر خواہ تھیں اور انہوں نے ایک متاثر کن اور لازوال سیاسی ورثہ چھوڑا ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے بیگم خالدہ ضیاء کے اہلِ خانہ، ان کی جماعت کے کارکنان اور بنگلہ دیش کے عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
اس موقع پر وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔