اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر تعزیت کے لیے عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کا دورہ کیا۔

وزیراعظم نے بنگلہ دیش کے ناظم الامور سے اظہارِ تعزیت کیا، تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلم بند کیے اور مرحومہ کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔

اپنے تعزیتی پیغام میں وزیراعظم نے بیگم خالدہ ضیاء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک صاحبِ بصیرت رہنما اور نامور سیاسی شخصیت قرار دیا جنہوں نے اپنی زندگی عوامی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بیگم خالدہ ضیاء پاکستان اور پاکستانی عوام کی مخلص دوست اور خیر خواہ تھیں اور انہوں نے ایک متاثر کن اور لازوال سیاسی ورثہ چھوڑا ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے بیگم خالدہ ضیاء کے اہلِ خانہ، ان کی جماعت کے کارکنان اور بنگلہ دیش کے عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

اس موقع پر وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن