وزیراعظم کی زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
وزیراعظم کی زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 6 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ 5 برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی زرعی برآمدات میں اضافے اور زرعی شعبے کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے تشکیل کردہ نجی شعبے کے ماہرین پر مبنی ورکنگ گروپ کا اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے کی اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج اطوار سے متعارف کرانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وفاقی حکومت زرعی شعبے میں اپنے دائرہ کار میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر زراعت کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے کسانوں کو معیاری بیج، مناسب قیمت پر بروقت کھاد اور بیماری کی روک تھام کیلئے ادویات کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ سے برآمدات کے قابل اشیاء کی تیاری کیلئے پالیسی سطح پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، حال ہی میں چین میں سرکاری خرچ پر ایک ہزار پاکستانی طلباء و طالبات کو زراعت کی جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کیلئے بھیجا گیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی زرعی شعبے میں ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے، موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے زراعت کی ترقی کیلئے تحقیق پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ ماہی گیری اور پھلوں و ان سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، ساحلی پٹی پر پام آئل کی پیداوار کیلئے پالیسی اقدامات تشکیل دے کر پیش کئے جائیں، آئندہ پانچ برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفی تولہ سونے کی قیمت میں آج پھر ہزاروں روپے کا اضافہ فی تولہ سونے کی قیمت میں آج پھر ہزاروں روپے کا اضافہ پاکستان۔امریکہ پارلیمانی تعلقات میں نیا ادارہ جاتی باب کھل گیا وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور انکی اہلیہ پر فرد جرم عائد حکومت کا بجلی صارفین کو ایک اور ریلیف دینے کا فیصلہ اسلام آباد: عدالت کا پولن الرجی والے درخت کاٹنے کا حکم، ٹھیکیدار نے تمام درخت کاٹ ڈالے ڈیموکریٹک کی ٹرمپ انتظامیہ پر کڑی تنقید، وینزویلا پر حملہ غیر قانونی قرار دیدیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: لائحہ عمل تشکیل کی زرعی
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔