پاکستان نے وینزویلا میں کارروائیوں کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پاکستان نے وینزویلا میں کارروائیوں کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 6 January, 2026 سب نیوز
نیویارک: (آئی پی ایس):پاکستان نے وینزویلا کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان نے وینز ویلا میں کارروائیوں کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا، پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب میں کہا، دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار ہے،بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کیلئے نئے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔
عثمان جدون کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کا واحد حل مکالمہ اور سفارتکاری ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان وینزویلا میں حالیہ پیش رفت کو گہری تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے، ایسے عالم میں جب دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار ہے، کیریبین خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عدم استحکام علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے نیک شگون نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا منشور ہمیں اس امر کا پابند بناتا ہے کہ ہم کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے باز رہیں، منشورِ اقوامِ متحدہ رکن ممالک کو خودمختار مساوات، دوسروں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور بین الاقوامی تنازعات کے پرامن ذرائع سے حل کا بھی پابند کرتا ہے۔
عثمان جدون نے کہا کہ یکطرفہ فوجی کارروائی ان مقدس اصولوں اور ریاستی خودمختار استثنیٰ کے نظریئے کی صریح خلاف ورزی ہے، اس طرح کے اقدامات خطرناک نظائرقائم کرتے ہیں جو عالمی قانونی ڈھانچے کی بنیادوں کو کمزور کرنے کا خدشہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں، جو جیسا کہ تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے، آنے والے برسوں تک غیر متوقع اور بے قابو نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔
عثمان جدون کا کہنا ہے کہ اس نازک مرحلے پر آگے بڑھنے کا واحد راستہ مکالمہ اور سفارت کاری ہونا چاہئے، سیاسی اختلافات کے پائیدار حل صرف پُرامن ذرائع سے ہی تلاش کئے جا سکتے ہیں، وینزویلا کے عوام کی آزادانہ مرضی کے مکمل احترام کے ساتھ اور کسی بھی بیرونی مداخلت سے پاک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ لاطینی امریکہ اور کیریبین کا خطہ حیثیت ایک زونِ امن، تصادم اور محاذ آرائی سے محفوظ رہے گا اور خطے کے عوام کے لئے بہتر خوشحالی اور مضبوط علاقائی تعاون کی جانب اپنا سفر جاری رکھے گا۔
ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی لائیں، پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دیں، کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو اس نازک صورتحال کو مزید بگاڑ سکتا ہو اور خلوصِ نیت سے پیش کی گئی ثالثی کی پیشکشوں سمیت مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین اور جنوبی کوریا قریبی پڑوسی ہیں، اہلیہ چینی صدر چین اور جنوبی کوریا قریبی پڑوسی ہیں، اہلیہ چینی صدر پیسہ ہر صوبے کے پاس ہے، صرف کام کرنیکی نیت اور ارادے کی کمی ہے: مریم نواز سپریم لیڈر سے متعلق جھوٹے اور مضحکہ خیز الزامات کو مسترد کرتے ہیں: ایرانی سفیر شہباز شریف کا بنگلا دیش ہائی کمیشن کا دورہ، بیگم خالد ضیا کے انتقال پر اظہار تعزیت پارلیمانی ڈپلومیسی:پاکستان کا اعلی سطح وفد امریکہ جائے گا،سیدال خان ناصر پنجاب حکومت کا نفرت پھیلانے والوں کیلئے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عالمی امن کیلئے پاکستان نے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔