ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان میں 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کی بھارتی تسلط و ظلم کیخلاف لازوال جدوجہد آزادی اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی۔
کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئےر ملک بھر میں ریلیاں، واکس، سیمینارز اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے گا جبکہ قومی یکجہتی کی علامت کے طور پر مختلف مقامات پر انسانی زنجیریں بھی بنائی جائیں گی۔
وہ غذائیں جو آپ کو صحت مند رکھتی ہیں
حکومت نے ریاستی اداروں اور میڈیا کو ہدایت کی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں اجاگر کریں اور قومی و بین الاقوامی سطح پر آگاہی بڑھائیں۔ ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے جن میں تنازع کے تاریخی پس منظر اور موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالی جائے گی۔
یومِ کشمیر کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے بڑے شہروں میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے جانے کا امکان ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ریلیوں اور عوامی اجتماعات کے دوران الرٹ رہیں گے۔
پاکستان کبڈی فیڈریشن کی ڈسپلنری کمیٹی نے عبیداللہ راجپوت کو طلب کرلیا
سیاسی اور مذہبی رہنما تقریبات سے خطاب کریں گے اور اس بات کا اعادہ کریں گے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔