’’کسان حکومت کی اولین ترجیح ہیں‘‘ وزیراعظم کی زرعی برآمدات میں اضافے کا لائحہ عمل بنانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم نے کسانوں کی خوشحالی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے زرعی برآمدات میں اضافے کا لائحہ بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
ملکی زرعی برآمدات میں اضافے اور زرعی شعبے کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے تشکیل کردہ نجی شعبے کے ماہرین پر مبنی ورکنگ گروپ کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج جدید اطوار سے متعارف کروانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت زرعی شعبے میں اپنے دائرہ کار میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر زراعت کی ترقی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے کسانوں کو معیاری بیج، مناسب قیمت پر بروقت کھاد اور فصلوں میں بیماریوں کی روک تھام کے لیے ادویات کی فراہمی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے ذریعے برآمدات کے قابل اشیا کی تیاری کے لیے پالیسی سطح پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے بتایا کہ حال ہی میں چین میں سرکاری خرچ پر ایک ہزار پاکستانی طلبہ و طالبات کو زراعت کی جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے بھیجا گیا ہے۔ پاکستان میں زرعی شعبے کی ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے اور موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے زراعت کی ترقی کے لیے تحقیق پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔
شہباز شریف نے ماہی گیری، پھلوں اور ان سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات اٹھانے، ساحلی پٹی پر پام آئل کی پیداوار کے لیے پالیسی اقدامات تشکیل دے کر پیش کرنے اور آئندہ 5 برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس میں چیئرمین ورکنگ گروپ رانا نسیم اور ان کی ٹیم نے ملکی زرعی شعبے پر جامع رپورٹ پیش کی، جس میں شعبے کو درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو تفصیلی طور پر ملک میں ربیع و خریف کی بڑی فصلوں، ان کی فی ایکڑ اوسط پیداوار، ہارٹی کلچر و پھلوں کی پیداوار و برآمدات، گلہ بانی، ڈیری شعبے اور زراعت سے متعلقہ تمام شعبوں کا خطے اور عالمی سطح پر تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ قلیل مدتی اصلاحاتی فریم ورک کے تحت پاکستان کی موجودہ فی ایکڑ اوسط پیداوار کو موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے بڑھایا جائے گا، جس کے لیے وفاقی حکومت معیاری بیج کی فراہمی، پالیسی اقدامات اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون سے مؤثر ایکسٹینشن سروسز فراہم کرے گی اور کسانوں کو جدید خطوط پر زرعی طریقہ کار سے روشناس کرایا جائے گا۔
شرکا کو مزید بتایا گیا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے لیے وفاقی حکومت سرٹیفکیشن رجیم پر کام کرے گی، جو زرعی اجناس اور ان سے تیار کردہ مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں قدر میں اضافہ یقینی بنا کر کسانوں کے منافع میں اضافے کا باعث بنے گا۔
اجلاس کو تحقیقاتی اداروں کی اصلاحات پر بھی جامع لائحہ عمل پیش کیا گیا، جس کے تحت نہ صرف موجود فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا بلکہ پاکستان کی آب و ہوا اور زمین کے مطابق نئی اور منافع بخش فصلوں کی کاشت کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔
وزیرِ اعظم نے ورکنگ گروپ کی جانب سے دی گئی مفصل بریفنگ کو سراہتے ہوئے قابلِ عمل، مؤثر اور جامع روڈ میپ تیار کرکے حکومتی اصلاحات کی سفارشات میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: برآمدات میں اضافے زرعی برآمدات لائحہ عمل فی ایکڑ کے لیے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔