وینزویلا میں تیل کی پیداوار پڑھانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے امریکی آئل کمپنیوں سے اہم مذاکرات متوقع
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ رواں ہفتے امریکی آئل کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران سے ملاقاتوں کا منصوبہ بنا رہی ہے، جن میں وینزویلا میں تیل کی پیداوار بڑھانے پر غور کیا جائے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ ملاقاتیں اس لیے اہم ہیں کہ امریکی افواج کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی معزولی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ جنوبی امریکی ملک میں دوبارہ امریکی آئل کمپنیوں کی واپسی کی خواہاں ہے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ زہران ممدانی کے لیے کیا چیلنجز پیدا کرسکتے ہیں؟
تاہم، امریکا کی 3 بڑی آئل کمپنیاں ایکسن موبل، کونوکو فلپس اور شیورون کا کہنا ہے کہ مادورو کی گرفتاری سے قبل یا بعد میں وائٹ ہاؤس کے ساتھ ان کی کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی، جو صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے برعکس ہے۔
ماہرین کے مطابق وینزویلا میں تیل کی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں اضافے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور کئی سال درکار ہوں گے، کیونکہ ملک کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی آئل انڈسٹری وینزویلا میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے، تاہم کمپنیوں نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
مزید پڑھیں: نیتن یاہو کل امریکا کا دورہ کریں گے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع
ادھر سرمایہ کاروں نے امریکی اقدام کو مثبت قرار دیتے ہوئے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھا دی، جس کے نتیجے میں امریکی اسٹاک مارکیٹ میں توانائی سے وابستہ کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا وینزویلا میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکی آئل کے لیے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔