امریکا کی وینزویلا میں کارروائی عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے،ابو الخیر زبیر
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علماءپاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے وینزویلا میں امریکی مداخلت اور مختلف ممالک کو دی جانے والی دھمکیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف وینزویلا بلکہ دنیا کے دیگر آزاد ممالک کی خودمختاری کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے وینزویلا پر اقتصادی پابندیاں، سیاسی دبا¶ اور بالواسطہ مداخلت کے ساتھ
ساتھ مختلف ممالک کو طاقت کے استعمال اور معاشی پابندیوں کی دھمکیاں دینا اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور عالمی اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ عالمی طاقتوں کی جانب سے کمزور ممالک کو ڈرانا، ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا اور حکومتوں کی تبدیلی کی کوششیں کرنا عالمی امن و سلامتی کو براہِ راست خطرے میں ڈال رہا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب طاقتور ریاستیں اقوامِ متحدہ کے اصولوں کو روند رہی ہوں تو سلامتی کونسل اور عالمی ادارے خاموش کیوں ہیں؟انہوں نے مزید کہا کہ وینزویلا کے عوام آج شدید معاشی دبا¶ اور انسانی بحران کا شکار ہیں، جبکہ دیگر ممالک بھی امریکی دبا¶ اور دھمکیوں کے باعث خوف اور عدم استحکام کی فضا میں جی رہے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی ضمیر کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کو دوہرے معیار ترک کرتے ہوئے ہر اس ملک کے خلاف موثر اور غیرجانبدارانہ کارروائی کرنی چاہیے جو اس کے چارٹر کی خلاف ورزی کرے، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، تاکہ عالمی امن اور خودمختاری کا حقیقی تحفظ ممکن ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔