وولف مون 2026، دنیا کے مختلف ممالک میں نظارہ کیسا رہا؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
دنیا بھر میں آسمانی شوقین افراد نے نئے سال کے آغاز پر پہلی سپرمون 2026 کی تصاویر بنائیں، جس نے رات کے آسمان کو اپنی خوبصورت چمک سے جگمگا دیا۔ یہ سپرمون آج (5 جنوری 2026) کو نظر آیا اور سرد ترین دنوں میں بھی شفافیت کے باعث دیکھنے میں آسان رہا۔
گلاسٹنبری، برطانیہبرطانیہ میں سپرمون نے شائقین کو حیرت انگیز مناظر فراہم کیے، جن میں اسٹون ہینج، سورے، لندن، گلاسٹنبری، گلوسٹر، میساچوسٹس، چین، جرمنی، سعودی عرب، سینٹ سالواڈور، ال سلواڈور، امریکا اور سیرا ڈی گوادرما، اسپین شامل ہیں۔
گلاسٹنبری، برطانیہگرین وچ میں رائل آبزرویٹری کے مطابق اس سپرمون کو ’وولف مون‘ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ مڈ ونٹر کے مہینوں میں بھوکے بھیڑیا شکار کی تلاش میں دہاڑتے ہیں۔ اسٹون ہینج، برطانیہ کے پس منظر میں سپرمون کا طلوع ہونا ایک نمایاں منظر تھا۔
سورے، برطانیہسپرمون اس وقت ہوتا ہے جب پورا چاند زمین کے قریب ترین نقطے یعنی ’پیریجی‘ پر ہوتا ہے، جو تقریباً 220,000 میل کے فاصلے پر ہے، جبکہ دورترین نقطہ ’اپوجی‘ تقریباً 250,000 میل ہوتا ہے۔
لندنوولف مون 2026، اکتوبر کی ہارویسٹ مون، نومبر کی بیور مون اور دسمبر 2025 کی کولڈ مون کے بعد مسلسل چوتھا سپرمون ہے۔ اگرچہ سال میں 3 سے 4 سپرمون معمول کی بات ہے، مگر مسلسل سپرمون ہونا نسبتاً نایاب ہے۔
لندنآپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسپین امریکا؎ برطانیہ جرمنی چین سپر مون لندن وولف مون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپین امریکا برطانیہ چین وولف مون وولف مون
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔