وولف مون 2026، دنیا کے مختلف ممالک میں نظارہ کیسا رہا؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
دنیا بھر میں آسمانی شوقین افراد نے نئے سال کے آغاز پر پہلی سپرمون 2026 کی تصاویر بنائیں، جس نے رات کے آسمان کو اپنی خوبصورت چمک سے جگمگا دیا۔ یہ سپرمون آج (5 جنوری 2026) کو نظر آیا اور سرد ترین دنوں میں بھی شفافیت کے باعث دیکھنے میں آسان رہا۔
گلاسٹنبری، برطانیہبرطانیہ میں سپرمون نے شائقین کو حیرت انگیز مناظر فراہم کیے، جن میں اسٹون ہینج، سورے، لندن، گلاسٹنبری، گلوسٹر، میساچوسٹس، چین، جرمنی، سعودی عرب، سینٹ سالواڈور، ال سلواڈور، امریکا اور سیرا ڈی گوادرما، اسپین شامل ہیں۔
گلاسٹنبری، برطانیہگرین وچ میں رائل آبزرویٹری کے مطابق اس سپرمون کو ’وولف مون‘ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ مڈ ونٹر کے مہینوں میں بھوکے بھیڑیا شکار کی تلاش میں دہاڑتے ہیں۔ اسٹون ہینج، برطانیہ کے پس منظر میں سپرمون کا طلوع ہونا ایک نمایاں منظر تھا۔
سورے، برطانیہسپرمون اس وقت ہوتا ہے جب پورا چاند زمین کے قریب ترین نقطے یعنی ’پیریجی‘ پر ہوتا ہے، جو تقریباً 220,000 میل کے فاصلے پر ہے، جبکہ دورترین نقطہ ’اپوجی‘ تقریباً 250,000 میل ہوتا ہے۔
لندنوولف مون 2026، اکتوبر کی ہارویسٹ مون، نومبر کی بیور مون اور دسمبر 2025 کی کولڈ مون کے بعد مسلسل چوتھا سپرمون ہے۔ اگرچہ سال میں 3 سے 4 سپرمون معمول کی بات ہے، مگر مسلسل سپرمون ہونا نسبتاً نایاب ہے۔
لندنآپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسپین امریکا؎ برطانیہ جرمنی چین سپر مون لندن وولف مون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپین امریکا برطانیہ چین وولف مون وولف مون
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔