ینزویلا کی اپوزیشن رہنما کا وطن واپسی کا اعلان، عبوری صدرمسترد
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
وینزویلا (ویب ڈیسک) اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے کہا ہے کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو وطن واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں ساتھ ہی انہوں نے دارالحکومت کاراکاس میں قائم عبوری حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر بیان کے بعد یہ ان کا یہ پہلا عوامی سطح پر ردعمل ہے۔نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے ملک واپس آئیں گی۔ماچاڈو گزشتہ ماہ ناروے گئی تھیں جہاں انہوں نے نوبیل امن انعام وصول کیا اور اس کے بعد سے وینزویلا واپس نہیں آئی تھیں۔
انہوں نے فاکس نیوز کے میزبان شان ہینٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نامعلوم مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد از جلد وینزویلا واپس جانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ماچاڈو نے ملک کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد، سیاسی جبر، بدعنوانی اور منشیات کی اسمگلنگ کی اہم معماروں میں سے ایک ہیں۔ڈیلسی روڈریگز جو واشنگٹن کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اظہار کر چکی ہیں، مادورو کے دور میں وینزویلا کی نائب صدر رہ چکی ہیں۔
ماچاڈو کا کہنا تھا کہ روڈریگز کو وینزویلا کے عوام مسترد کر چکے ہیں اور ووٹرز اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ان کے مطابق آزاد اور شفاف انتخابات میں اپوزیشن نوے فیصد سے زائد ووٹوں سے کامیاب ہو گی اور انہیں اس میں کوئی شک نہیں۔ماچاڈو نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ وینزویلا کو براعظم امریکا کا توانائی مرکز بنائیں گی، ملک کو نقصان پہنچانے والے تمام مجرمانہ ڈھانچوں کو ختم کریں گی اور ان لاکھوں وینزویلا کے شہریوں کو واپس لائیں گی جو ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2025 کے بعد ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق آخری بار بات اسی دن ہوئی تھی جب نوبیل امن انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ماچاڈو کو یہ انعام اس جدوجہد پر دیا گیا جسے ناروے کی نوبیل کمیٹی نے آمریت کے خلاف جدوجہد قرار دیا تھا۔انہوں نے امریکی کارروائی کو انسانیت، آزادی اور انسانی وقار کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا۔
تاہم یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ماچاڈو کے ساتھ کام کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ملک کے اندر حمایت یا احترام حاصل نہیں۔
دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ جو صدر ٹرمپ کو پیش کی گئی، اس کے مطابق مادورو کے قریبی وفادار رہنما، جن میں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز بھی شامل ہیں، اقتدار کی تبدیلی کی صورت میں ملک میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہی جائزہ اس فیصلے کی ایک وجہ بنا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپوزیشن رہنما کے بجائے مادورو کی نائب صدر کی حمایت کی۔
وائٹ ہاؤس نے رپورٹ کی تصدیق سے انکار کیا تاہم صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کی سیاسی صورتحال پر باقاعدگی سے بریفنگ لیتے ہیں اور ان کی ٹیم ایسے فیصلے کر رہی ہے جو امریکا کے مفادات کے مطابق ہوں اور وینزویلا کو اس کے عوام کے لیے ایک بہتر ملک بنانے میں مدد دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :