وینزویلا کا صدر ہوں، مجھے اغوا کیاگیا، الزامات بےبنیاد ہیں، مادورو کا امریکی عدالت میں بیان
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی عدالت میں الزامات تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئےکہا ہےکہ میں ایک اچھا انسان ہوں، اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں، مجھے اغوا کیا گیا ہے۔
مادورو اور ان کی اہلیہ کو بروکلن سے بذریعہ ہیلی کاپٹر مین ہیٹن لایا گیا جہاں سے انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں عدالت منتقل کیا گیا۔
امریکی میڈیا کےمطابق مادورو کو قیدیوں کا یونیفارم پہنائے اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالتی کارروائی کو ہسپانوی زبان میں سمجھنے کے لیے انہوں نے ہیڈفون بھی پہن رکھے تھے۔
وفاقی عدالت کے جج نے مادورو سے اپنی شناخت بتانے کو کہا تو انہوں نے بتایا کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیں۔
جج نے مادورو کے خلاف الزامات پڑھ کر سنائے، جن میں منشیات اور دہشت گردی کے الزامات شامل تھے۔ تاہم مادورو نے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے الزامات تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں بے گناہ ہوں، میں اب بھی اپنے ملک کا صدر اور مہذب آدمی ہوں، یہاں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کسی کا بھی میں قصوروار نہیں ہوں، مجھے اغوا کیا گیا ہے۔
مادورو کی اہلیہ نے بھی اپنی بے گناہی پر زور دیتے ہوئے کہا وہ بے قصور اور بے گناہ ہیں۔
جج نے مقدمے میں لمبی تاریخ دیتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو 17 مارچ کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
خیال رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اتوار کے روز امریکا لانے کے بعد نیویارک کی ایک جیل منتقل کردیا گیا تھا، نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتے کے روز وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت میں کی اہلیہ کیا گیا
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔