صوبائی محتسب سندھ کی سال 2025 کی کارکردگی رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری) صوبائی محتسب سندھ کی گزشتہ سال 2025 کی کارکردگی رپورٹ جاری جردی گئی۔
گزشتہ سال صوبائی محتسب سندھ کو سرکاری محکموں سے متعلق25 ہزار سے زائد عوامی شکایات موصول ہوئیں، 12 ہزار سے زائد عوامی شکایات کا فیصلہ کیا گیا, 25 سو سے زائد عوامی شکایات کو غیر رسمی طور پر حل کیا گیا جبکہ 7 ہزار سے زائد شکایات ابتدائی اسکروٹنی کے بعد فارغ کردی گئیں۔
صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت کا کہنا ہے کہ سال 2024ء میں ہمیں 9 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئی تھیں تاہم اس سال آگاہی سیمینارز، کھلی کچہریاں، طلباء کی شمولیت عوامی شکایات میں خاطر خواہ اضافے کا سبب بنیں۔
انھوں نے کہا کہ عوامی شکایات کے حل کا دورانیہ قلیل کیے جانے سے بھی شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا، ہم نے عوام کو شکایات کے اندراج کے لیے ویب سائٹ اور ایپلیکیشن کی بھی سہولت فراہم کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے جلد افتتاح سے شکایت کنندہ براہ راست اپنی شکایت پر عملدرآمد ہوتا دیکھ سکے گا، عوام کو مفت، معیاری اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے مزید اقدامات کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عوامی شکایات
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔