کوئٹہ کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جے یو آئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اپنے بیان میں جے یو آئی کوئٹہ نے رہنماؤں نے کہا کہ دارالحکومت ہونے کے باوجود کوئٹہ کی زبوں حالی لمحہ فکریہ اور حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمٰن رفیق، جنرل سیکرٹری عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد و دیگر نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں منفی درجہ حرارت کے باوجود شہر کے اکثر علاقوں میں گیس پریشر کی شدید کمی عوام کے لیے وبال جان بن چکی ہے۔ گیس انتظامیہ اس سنگین مسئلے کے مستقل حل میں دانستہ غفلت برت رہی ہے۔ انہیں عوام کی اذیت اور مشکلات کا کوئی احساس نہیں۔ شہری اس وقت انتہائی اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ کو کوئٹہ کے شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں گیس، بجلی اور پانی کی سہولتیں ناپید ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں صفائی کا نظام نہایت ابتر اور شرمناک حد تک خراب ہو چکا ہے۔ صوبائی دارالحکومت ہونے کے باوجود کوئٹہ کی یہ زبوں حالی لمحہ فکریہ ہے اور حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔