Express News:
2026-07-24@01:28:29 GMT

افریقا: جلائے گئے مردے کی 9500 برس قدیم باقیات دریافت

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے افریقا کے مشرقی ملک ملاوی میں بالغ انسان کا مردہ جلانے کی اب تک کی سب سے قدیم باقیات دریافت کرلیں۔ یہ دریافت قدیم دور میں میت کی آخری رسومات کے حوالے سے نئے سوالات اٹھاتی ہے۔

ملاوی میں موجود ہورا 1 نامی یہ تاریخی جگہ سیکڑوں فٹ بلند گرینائٹ کی چٹانوں کی بنیاد میں ہے۔

یہاں سائنس دانوں نے قابل از تاریخ دور کی راکھ دریافت کی ہے جو کہ ایک خاتون کی باقیات کے حصے ہیں (جس کا قد پانچ فِٹ کے اندر تھا) جو یہاں ہزاروں برس سے موجود ہیں۔

ییل یونیورسٹی کی ماہرِ آثارِ قدیمہ جیسیکا تھامپسن کا کہنا تھا کہ اس دریافت سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہرین کی قسمت اچھی تھی کیوں کہ یہ ایک شیلٹر کے نیچے ہے اور بارش اس پر براہ راست نہیں برستی۔ اس لیے ہڈیاں باقی ہیں۔

اب تک سب سے قدیم قصداً جلائے گئے مردے کی تاریخ تقریباً 3300 برس پہلے ملتی ہے۔ البتہ، محققین کے مطابق ہورا 1 میں ملنے والی جلائے ہوئے مردے کی باقیات 9500 سال پرانی ہیں جو اس وقت کے افریقیوں نے انجام دی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار