ڈکیت نے موبائل چھینا، مزاحمت کرنے پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگیا، ہمایوں اشرف
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار ہمایوں اشرف اپنی متنوع اداکاری کی بدولت پہچانے جاتے ہیں۔
انہوں نے خدا اور محبت، رنگ محل، میرے داماد، انتقام، سلطنت، احسان فراموش، اب دیکھ خدا کیا کرتا ہے، اک تمنا لاحاصل سی اور مشکل جیسے کامیاب ڈراموں میں شاندار کام کیا۔
منفی کردار میں ’نقاب‘ ان کے کیریئر کا یادگار پراجیکٹ ثابت ہوا جبکہ حالیہ دنوں میں ’الزامِ عشق‘ میں ان کی اداکاری کو بھی خوب سراہا گیا۔
حال ہی میں ہمایوں اشرف مزاحیہ شو ہنسنا منع ہے میں بطور مہمان شریک ہوئے، جہاں انہوں نے ایک خوفناک موبائل اسنیچنگ کے واقعے کا ذکر کیا۔
ان کے مطابق اس طرح کے واقعات اچانک پیش آتے ہیں اور انسان بالکل غیر متوقع کیفیت میں ہوتا ہے۔
ہمایوں اشرف نے بتایا کہ واقعے سے کچھ دن پہلے ہی انہوں نے نیا اور مہنگا موبائل خریدا تھا کہ اچانک ایک اسنیچر نے اسلحہ دکھا کر موبائل مانگ لیا۔
ہمایوں کے مطابق انہوں نے مزاحمت کی جس کے دوران فائرنگ ہوئی اور اسنیچر فرار ہو گیا۔ بعدازاں انہیں احساس ہوا کہ انہیں چوٹ آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قریبی افراد نے فوری مدد کی اور انہیں اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ان کا علاج شروع کیا گیا۔
ہمایوں اشرف نے کہا کہ یہ لمحہ نہایت مشکل تھا مگر اللہ کے فضل سے وہ محفوظ رہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ہمایوں اشرف انہوں نے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ