مقبوضہ کشمیر: آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں عالمی ضمیر پر سوالیہ نشان: حافظ عبدالکریم
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے یومِ حقِ خود ارادیتِ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کشمیری عوام سات دہائیوں سے زائد عرصے سے بھارتی مظالم اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں،مگر آج تک انہیں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے، ماورائے عدالت قتل، جبری گرفتاریاں، اظہارِ رائے پر پابندیاں اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی منظم کوششیں عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ عالمی برادری کی خاموشی بھارت کو مزید ظلم کی کھلی چھوٹ دے رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر خطے میں پائیدار امن کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا واحد منصفانہ حل کشمیری عوام کو آزادانہ اور شفاف استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینا ہے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث حکومتِ پاکستان کے ساتھ ملکر مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر مزید مو ثر انداز میں اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا فوری نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو ان کا جائز حق دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت ہر فورم پر جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ