امریکی من مانی زور پکڑتی جارہی ہے،عالمی طاقتیں اپناکلیدی کردارادا کریں:حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ وینزویلا میں امریکی کارروائی کرکے صدر مادورو کے اغوا اور ان پر بنائے جانے والے مقدمات پر عالمی طاقتوں کے بے بسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کی بڑی اقوام کو نام لے کر دھمکیاں دے رہا ہے اور وہ ایک بین الاقوامی غنڈے کے روپ میں سامنے آرہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وینزویلا کے صدر کے اغوا اور ان پر غیر قانونی مقدمے کے بعد دنیا میں ایک بار پھر نو آبادیاتی نظام کو عملی طور پر مسلط کیا جارہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کی بڑی اقوام کو نام لے کر دھمکیاں دے رہا ہے اور ایک بین الاقوامی غنڈے کے روپ میں سامنے آرہا ہے۔یہ بات انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میںکہی۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی طاقتیں بین الاقوامی امن کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آرہی ہیں اور امریکی من مانی ایک بار پھر زور پکڑتی جارہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایک طرف 80 ہزار انسانوں کا قاتل اور غزہ کو تہس نہس کرنے والا نیتن یاہو امریکی صدر ٹرمپ کی آنکھ کا تارا بنا ہوا ہے اور دوسری طرف ٹرمپ اپنے مخالفین پر یلغار کررہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان رہا ہے
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔